قمر اور زہرہ ستارے کی شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ سے گفتگو

بارھویں صدی کے مجدد حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒ نے فرمایا کہ ایک بار مجھے شرف زہرہ اور شرف قمر کے اوقات میں دو انگوٹھیاں بنوانے کا اتفاق ہوا اور وہ دونوں انگوٹھیاں دو عورتوں کو دی گئیں۔ تھوڑے دنوں بعد وہ دونوں سخت تکلیف میں مبتلا ہوئیں۔ بہت علاج کیا گیا مگر کوئی فائدہ نہ ہوا بلکہ روز بروز تکلیف بڑھتی گئی اور اس کا سبب معلوم نہ ہو سکا۔ آخر ایک روز مراقبے کے دوران یعنی حالت کشف میں ان دونوں انگوٹھیوںنے ہمارے سامنے شکایت کرنا شروع کی اور حد سے زائد گلے شکوے کیے کہ ہم کو بغیر طہارت استعمال کیا جاتا ہے اور ہماری حرمت ( پاکیزگی) کا خیال نہیں رکھا جاتا۔ جس کی وجہ سے ہم بہت اذیت میں ہیں‘ اور ان عورتوں کی بیماری کا بھی یہی سبب ہے۔ پس میں نے ان عورتوں کو انگوٹھیاں اتارنے کا حکم دیا اور جب ان سے لے کر احتیاط سے پاک و صاف جگہ پر رکھ دیا تب ان دونوں نے شفا پائی۔ پھر میں نے بہت تاکید اور سختی سے کہہ دیا کہ ان کو بغیر طہارت ہر گز نہ پہنا جائے۔

شرائط کی ادائیگی کے بعد ان انگوٹھیوں میں سے ایک نےجو شرف قمر سے متعلق تھی مصالحت کر لی لیکن جو شرف زہرہ سے متعلق تھی اس کو بمقابلہ اول شکایت زائد تھی وہ مصالحت کے لئے تیار نہ ہوئی چنانچہ کچھ عرصہ کے بعد وہ گھر سے گم ہو گئی اور چند روز بعد اصحاب میں سے ایک کی جیب سے برآمد ہو ئی گویا وہ زنانخانہ میں رہنے پر راضی نہ تھی۔ لہٰذا وہ ضروتاً اپنے پاس رکھ لی گئی اور اس طرح ایک دوسرے شخص نے بھی ایک انگوٹھی بنوائی اور اس کے استعمال کی احتیاط نہ برتی اس انگوٹھی نے بھی ہم سے شکایت کی اور ایسا معلوم ہوا کہ جس روحانی ساعت میں وہ انگوٹھی بنائی جاتی ہے اس کی روحانیت ،کمال اور برکت اس انگوٹھی میں شامل کر دی جاتی ہے۔ اور یہ بھی واضح ہوا کہ ان تمام ستاروں کی روحانی طاقتیں فطری طور پر طہارت کی طرف مائل ہیں۔ یعنی جو شخص جتنا زیادہ پاک صاف رہے گا ، خوشبو کا اہتمام کرے گا، اسے ان ساعتوں کی اتنی ہی زیادہ تاثیر حاصل ہو گی۔

حضرت شیخ ابو العباس احمد بن علی بونیؒ نے اپنی کتاب شمس المعارف میں لکھا ہےکہ برج 12 اور چاند کی منازل 28 ہیں۔ جن کا ذکر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

وَلَقَدْجَعَلْنَا فِی السَّمَآءِ بُرُوْجاًوَّزَیَّنّٰھَالِلنّٰظِرِیْنَ O

ترجمہ : ’’ بالاشبہ ہم نے آسمان میں بروج بنائے اور دیکھنے والوں کے لئےانہیں خوبصورت بنایا( الحجر:16)۔

لفظ ’’بروج‘‘ برج کی جمع ہے جس کے معنی قلعہ کے بھی ہیں۔ حضرت حسن بصری ؒ فرماتے ہیں: برج آسمان میں محل ہیں جیسے زمین میں محل ہوتے ہیں۔ اور علماء نے اس آیت

تَبَارَکَ الَّذِیْ جَعَلَ فِی السَّمَاءِبُرُوْجاًO( الفرقان:61)

کی تفسیر میں فرمایاہے کہ انسانی زندگی پر اثر انداز ہونے والےستاروں کی تعداد سات اور ان کے مقام یعنی برج مہینوں کی تعداد کے برابر یعنی بارہ ہے۔ حمل۔ثور۔ جوزا۔ سرطان۔ا سد۔ سنبلہ۔ میزان۔ عقرب۔ قوس۔ جدی۔دلو۔ حوت۔ ان بارہ برجوں میں ستاروں کے مقام ہیں جو اس ترتیب سے ہیں۔ حمل اور عقرب ’’ مریخ‘‘ کے گھر۔ ثور ’’ زہرہ‘‘ کا گھر ہے۔ جوزا اور سنبلہ ’’ عطارد‘‘ کے گھر ہیں۔ اور سرطان ’’ قمر‘‘ کا گھر ہے۔ اسد ’’ شمس‘‘ کا اور حوت ’’ مشتری‘‘ کا اور جدی اور دلو ’’زحل‘‘ کے گھر ہیں۔

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2025