محترم قارئین! ماہنامہ عبقری میں بیان کردہ جنات کے ماوراء العقل یا روحوں کے حیرت انگیز واقعات کے متعلق کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ سب جھوٹی کہانیاں ہیں ۔ دین تو قرآن وحدیث کا نام ہے قصے کہانیوں میں کیا رکھا ہوا ہے؟ حالانکہ جب ہم قرآنی اسلوب پر غور کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اللہ پاک جل شانہ نے بھی جہاں ضروری سمجھا وہاں پہلی امتوں کے قصے بیان فرما کر امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت و رہنمائی فرمائی۔ کیونکہ انسان ہمیشہ اپنے سے پہلے لوگوں کے واقعات سن کر عبرت حاصل کرتا اور اپنی دنیا آخرت کو بہتر بنانے کا سبق سیکھتا ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ امیر المومنین حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ کی محفل میں کس طرح کے حیرت انگیز واقعات بیان کیے جاتے تھے۔
مولانا محمد ہارون معاویہ صاحب لکھتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں ایک شخص اپنے بیٹے کو لے کر حاضر ہوا۔ دونوں میں اس قدر مشابہت تھی کہ امیر المومنین رضی اللہ عنہ حیران ہو گئے ۔ اس شخص نے کہا: اے امیر المومنین ! میرے اس بیٹے کی پیدائش کا قصہ بہت عجیب ہے۔ جب میری بیوی حاملہ ہوئی تو مجھے ایک جہادی معرکہ میں جانا پڑ گیا۔ بیوی کہنے لگی : آپ مجھے اس حالت میں چھوڑ کر جارہے ہیں؟ میں نے کہا: استودع الله ما في بطنك (تیرے پیٹ میں جو کچھ ہے میں اسے اللہ تعالیٰ کی سپر د کرتا ہوں ) یہ کہہ کر میں جہادی مہم پر چلا گیا۔
کافی عرصے بعد جب واپس آیا تو یہ درد ناک خبر ملی کہ میری بیوی کا انتقال ہوگیا ہے اور وہ جنت البقیع میں دفن ہے لیکن ساتھ ہی ایک حیرت انگیز بات بھی معلوم ہوئی کہ روزانہ رات کو اس کی قبر سے آگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں۔ میری بیوی پاک باز اور نیک عورت تھی۔ چنانچہ میں اس کی قبر پر گیا اور آنسو بہاتے ہوئے دعا کی۔۔۔ دیکھا تو وہاں قبر کھلی ہوئی تھی اور یہ بچہ بھی موجود تھا جو اس وقت بھوک کی وجہ سے بلبلا رہا تھا۔ میں اسے لینے کیلئے آگے بڑھا تو یہ آواز سنائی دی : اے اپنی امانت کو اللہ تعالیٰ کی سپرد کرنے والے ! اپنی امانت لے جاؤ۔ اگر تم اس کی ماں کو بھی اللہ کی سپر د کر جاتے تو آج وہ بھی تمہیں زندہ سلامت ملتی۔ لہذا میں نے اس بچے کو قبر سے اٹھایا تو قبر اپنی اصلی حالت میں واپس آگئی۔ اے امیر المومنین ! یہ وہی بچہ ہے.
(کتاب الدعاء للطبرانی جلد 2 صفحہ 1183 بحوالہ کتاب : کتابوں کی لائبریری میں، صفحہ 130 ناشر : مکتبہ بیت السلام انار کلی بازارلاہور )
