(مولانا قاری خلیل احمد صاحب، فاضل جامعہ تعلیم القرآن، فیصل آباد)
مزارات سے فیض شیخ الوظائف کا من گھڑت عقیدہ نہیں بلکہ اکابرینِ امت سے ثابت شدہ مستند عقیدہ ہے جو کہ تواتر کے ساتھ اکابرین سے منقول ہے۔
علامہ امام ابن عساکرؒ نے زیارتِ صالحین کی ترغیب پر ایک ایمان افروز واقعہ ذکر کیا ہے، فرماتے ہیں ’’میرے والد گرامی ابو محمد الحسن بن ہبۃ اللہ نے مجھے اپنا واقعہ بیان کیا کہ وہ ایک دن حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی قبر مبارک کی زیارت کے لیے گئے تو وہاں انہوں نے قبر کے پاس ایک عجمی عورت کو روتے ہوئے پایا۔ وہاں موجود بعض لوگوں نے کہا کہ جو اچھی طرح فارسی جانتا ہو وہ اس خاتون سے پوچھے کہ اس کے رونے کا سبب کیا ہے؟ جب اس سے پوچھا گیا تو اس عورت نے دریافت کیا کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی قبر کے پہلو میں یہ دوسری قبر کس کی ہے؟ میں نے کہا: یہ قبر ابوبکر شہر زوری کی ہے اور دوسری ان کے والد ابواسحاق کی ہے۔ ایک بالکل سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کی قبر کے سامنے ہے اور دوسری اس کے پیچھے، اس عورت نے کہا: میں نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی قبر کی زیارت کی، پھر میں زیارتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے چلی گئی اور (جب) قبر انور کے پاس گئی تو میں نے خواب میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے تھے: تُو نے بلال رضی اللہ عنہ کی قبر کی زیارت تو کی مگر اس کے قریب موجود دوسری قبر کی زیارت نہ کی؟ لہذا اب میں (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے شکوے کا ازالہ کرنے کے لئے) مدینہ منورہ سے اس قبر کی زیارت کے لئے آئی ہوں۔‘‘
(بحوالہ: ذکرہ ابن عساکر فی تاریخ دمشق الکبیر، 54 / 226)
شیخ الوظائف دامت برکاتہم کی کوشش یہی ہے کہ افراط اور تفریط سے پاک تعلیمات لوگوں کو دی جائیں جو کہ اکابرین کا ورثہ ہیں۔
