( قاری محمد عاصم صاحب ، مسجد تقوی بابو صابو )
شیخ الوظائف دامت برکاتہم اکثر پاکستان اور دیگر ممالک کے مزارات پر اتباع ا کا بڑ میں حاضری دیتے رہتے ہیں یہ حاضری ہمارے تمام مکاتب فکر کے بڑوں کا طریقہ رہی ہے مولانا نعیم الدین صاحب دامت برکاتہم (جامعہ مدنیہ قدیم لاہور کے شیخ الحدیث اور مکتبہ قاسمیہ اردو بازار کے مالک ) اہل اللہ کے مزار سے ملنے والی اس رہنمائی اور فیض کو کچھ یوں بیان کرتے ہیں:
عزیزم عابد سلمہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم حضرت مولانا عبد الجلیل صاحب کی خدمت میں حاضر تھے میں نے مولا نا عبد الکریم کشفی کے بارے میں استفسار کیا تو آپ نے فرمایا: ‘یہ پیدائشی کشفی تھے ان کا تعلق تخت ہزارہ سے تھا۔ یہ یہاں لاہور آئے اور حضرت محمد اسماعیل المعروف میاں وڈ ا صاحب کی قبر مبارک پر مراقبہ کیا، حضرت اسماعیل صاحب سے پوچھا کہ میں مدرسہ میں پڑھنا چاہتا ہوں۔ کیا داخلہ ہو جائے گا ؟ انہوں نے جواب دیا کہ انشاء اللہ داخلہ ہو جائے گا، یہ مراقبہ سے فارغ ہو کر باہر آئے اور ایک مدرسہ میں جا کر داخلہ کا پتہ کیا تو اس مدرسہ میں اسی وقت داخلہ ہو گیا۔
مدرسہ والوں نے کہا کہ داخلہ تو ہو گیا ہے پڑھائی بھی ہوگی لیکن کھانا وغیرہ کچھ بھی مدرسہ سے نہ ملے گا۔ یہ پھر حضرت میاں وڈا کے مزار پر آئے مراقب ہوئے اور کہا کہ حضرت مدرسہ میں داخلہ تو ہو گیا لیکن روٹی کا بندوبست نہیں ہوا۔ حضرت نے فرمایا کھانے کے انتظام بھی ہو جائے گا۔ یہ مراقبہ سے فارغ ہوئے تو ایک صاحب ملے انہوں نے پوچھا کہ آپ کیا کرتے ہیں؟ انہوں نے بتادیا کہ مدرسہ میں پڑھتا ہوں۔ انہوں نے پوچھا کہ کھانا کہاں سے کھاتے ہو؟ انہوں نے کہا کا فی الحال کوئی معقول بندوبست نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج سے آپ کا کھانا ہماری طرف سے ہوگا۔ یہ مطمئن ہو گئے۔
پڑھتے رہے ایک دن خیال آیا کہ میں کسی سے بیعت بھی ہو جاؤں فکر ہوئی کہ کس سے بیعت ہوں؟ پھر آگئے حضرت میاں وڈا صاحب کے مزار پر اور مراقب ہو کر پوچھا کہ حضرت میرا پیر کون ہوگا؟ حضرت نے ایک طرف اشارہ کیا کہ وہ دیکھو وہ صاحب تمہارے شیخ و مرشد ہیں۔ انہوں نے جب اُدھر نگاہ اٹھا کر دیکھا تو ایک صاحب کر یہ شلوار میں ملبوس پاؤں میں چپل پہنے کھڑے ہیں۔ انہیں دیکھ کر اطمینان ہوا۔ پھر پوچھا کہ کہاں رہتے ہیں؟ بتا دیا کہ سہارنپور، پھر انہوں نے کہا کہ میرے پاس تو وہاں تک جانے کی رقم نہیں ہے، حضرت نے فرمایا کہ انتظام ہو جائے گا۔ مراقبہ سے فارغ ہوئے تو ایک صاحب ملے انہوں نے ہاتھ پر اتنی رقم رکھ دی کہ اس میں لاہور سے سہارنپور کے ٹکٹ کا انتظام ہو جائے۔ یہ ٹکٹ لے کر سیدھے سہارنپور پہنچے۔ وہاں مولانا صاحب کا معلوم کیا۔ پتہ چلا کہ وہ مسجد میں ہیں۔ یہ مسجد پہنچ گئے تو باہر ان کی جوتی رکھی ہوئی تھی یہ دیکھتے ہی پہچان گئے کہ یہ تو وہی جوتی ہے جو مزار پر مراقبہ اور کشف میں دیکھی تھی ۔ اندر مسجد میں گئے تو وہاں شاہ عبد الرحیم سہارنپوری تشریف فرما تھے دیکھتے ہی پہچان گئے کہ یہ وہی بزرگ ہیں۔ ادھر انہوں نے پہچانا اُدھر مولانا عبدالرحیم سہارنپوری صاحب نے فرمایا کہ آپ صحیح جگہ پر آگئے ہیں اور انہیں فوراً بیعت فرمالیا۔c
(کتاب : بیا به مجلس نفیس ، صفحہ 310، حضرت مولانا نعیم الدین صاحب مدظلہم ، ناشر : صفہ ٹرسٹ لاہور )
محترم قارئین انبیح خانہ کا ہرعمل قرآن وسنت اور تعلیمات اکا بڑہی کا آئنہ دار ہے اللہ کریم میں بڑوں کا ادب عطا فرمائے ۔ آمین
