حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی صاحب لکھے ہیں کہ مسجد امومی (دمشق) کی چھت میں مختلف قسم کی کچھ ایسی عجیب و غریب چیزیں لٹکائی گئی تھی ، جن کے ذریعہ مختلف قسم کے حشرات الارض اور جانوروں کے مسجد میں داخل ہونے کا امکان ختم کر دیا گیا تھا ، ان چیزوں کو طلسمات کہا جاتا تھا۔ ایک طلسم کا اثر یہ تھا کہ مسجد میں ” سنونو” نامی پرندہ اپنا گھونسلہ نہیں بنا سکتا تھا اور کوئی کو ا داخل نہیں ہو سکتا تھا۔ ایک طلسم چوہوں کو داخل ہونے سے روکتا تھا، ایک طلسم سانپ اور بچھو کو۔ ایک طلسم مکڑیوں کے لئے تھا اور ایک کبوتروں کے لئے ۔ چنانچہ ان میں سے کوئی بھی جانور مسجد میں داخل نہیں ہو سکتا تھا۔
اس مسجد کا ایک عجوبہ یہاں کی متحیر العقول گھڑی تھی، جو تقریباً دو کمروں کے برابر تھی۔ اس میں دن کا وقت بتانے کے لئے الگ نظام تھا اور رات کا وقت بتانے کے لئے دوسرا نظام تھا۔ یہ عجیب و غریب گھڑی چھٹی صدی ہجری کے مشہور انجینر ( مهندس ) محمد بن عبدالکریم نے ایجاد کی تھی جو دمشق ہی کے باشندے تھے۔ 599ء میں ان کی وفات ہوئی۔
بحوالہ کتاب : ( انبیاء علیہ اسلام کی سرزمین میں صفحہ نمبر : 115, ناشر : ادارہ المعارف کراچی )
حلال حرام، جائز نا جائز اور شریعت ہم سے زیادہ ہمارے بڑے جانتے تھے!
