مسجد کی صفائی سے دنیا و آخرت کی کمائی

(محمد صہیب رومی، لاہور)

شیخ الوظائف دامت برکاتہم کے تمام دروس اٹھا کر دیکھ لیں ہر درس میں اسلامی تعلیمات کا کوئی نہ کوئی پیغام نہایت ہی خوبصورت انداز سے ہوتا ہے آپ اپنے اکثر دروس میں مسجد کی صفائی پر دنیا و آخرت کی مشکلات کا حل بیان فرماتے ہیں آئیے تعلیمات نبوی ﷺ کے حسین گلستانِ ادب سے اس حقیقت کو سمجھتے ہیں۔

کیونکہ ہماری زندگی کا مقصد نبی ﷺ کے دین کی سرفرازی
ہم اسی لیے مسلمان ہم اسی لیے نمازی

حضرت عبیداللہ بن مرزوق رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ مدینہ میں ایک بی بی کا انتقال ہو گیا تھا اور حضور ﷺ کو اس کی اطلاع نہیں ہوسکی تھی کچھ دنوں کے بعد جب اس کی قبر کی طرف آپ ﷺ کا گزر ہوا تو پوچھا ”یہ نئی قبر کس کی ہے؟“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! (ﷺ) یہ قبر اُمّ مِحجنؓ کی ہے پھر آپ نے پوچھا وہی اُمّ مِحجنؓ جو ہماری مسجد میں جھاڑو دیا کرتی تھی؟ صحابہ کرامؓ نے عرض کیا جی ہاں! یہ سنتے ہی آپ نے قبر کی طرف منہ کر کے سوال کیا: اے اُمّ مِحجن! (رضی اللہ عنہا) بتاؤ تم نے وہاں کس عمل کو زیادہ قیمتی پایا؟ صحابہؓ پوچھنے لگے یا رسول اللہ (ﷺ) وہ کیا اب سن رہی ہیں؟ حضور ﷺ نے جواب دیا، ہاں وہ تم زندوں سے زیادہ سن رہی ہیں اس کے بعد حضور ﷺ نے ان کا جواب بھی صحابہؓ سے نقل کیا کہ وہ مسجد میں جھاڑو دینے کے عمل کو سب سے بہتر عمل بتا رہی ہیں۔

محترم قارئین! جی ہاں شیخ الوظائف آپ کو جو بھی بات یہ پیغام دیتے ہیں اس کے پیچھے قرآن و سنت اور اکابر کی بڑی دلیل ضرور ہوتی ہے۔۔۔!

پوسٹ کو شیئر کریں

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026