مفتی اعظم پاکستان کے مکان پر جنات کا قبضہ ایک روحانی عامل کی فوری مدد


کچھ لوگ کہتے ہیں کہ روحانی عملیات سب ٹوپی ڈرامہ ہے۔ حقیقت میں "جن” نہیں ہوتا، بلکہ عاملوں کے من گھڑت قصے ہوتے ہیں۔ لیکن دوسری طرف جب ہم اپنے اکابر واسلاف کے واقعات پڑھتے ہیں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ جادو اور جنات کائنات کے ایسے حقائق ہیں، جن کے سامنے بعض اوقات انسان بے بس ہو جاتا ہے اور جب تک وظائف / روحانی عملیات کے ذریعے خدائی مدد حاصل نہ کرلے، تب تک گھر میں سکون نہیں آتا، کاروبار میں برکت نہیں ہوتی، عہدے میں ترقی نہیں ملتی، صحت تندرستی برقرار نہیں رہتی حتی کہ اولاد آنکھوں کی ٹھنڈک نہیں بنتی۔

شیخ الحدیث مولانا شاہ جلیل احمد اخون صاحب لکھتے ہیں کہ فقیہ العصر مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی ولی حسن ٹونکی رحمتہ اللہ علیہ کی رہائش جامعۃ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی کے قریب ایک فلیٹ میں تھی۔ بعد میں انہوں نے پٹیل پاڑہ میں کوٹھی نما مکان بنالیا اور کچھ عرصے کیلئے وہ مکان خالی پڑا رہا، جس پر جنات نے قبضہ کر لیا۔ حضرت مفتی صاحب اس سلسلے میں لالو کھیت کے ایک عامل کے پاس تشریف لے گئے جو حضرت کے دیرینہ دوست تھے۔ انہوں نے معاملے کی تفصیل سنی اور اگلے دن حضرت کے ہاں آکر کچے تعویذات دیتے ہوئے کہا کہ یہ تعویذات اس مکان کے ہر کمرے میں پورے سات دن تک جلانے ہیں۔

حضرت مفتی صاحب نے تعویذات جلانے کی ڈیوٹی میرے ذمے لگائی۔ چنانچہ میں روزانہ رات کو دس بجے اس مکان میں جاتا اور ہر کمرے میں تعویذ جلاتا۔ سات دن کے بعد اس عامل نے دوبارہ آکر مکان کا جائزہ لیا اور تصدیق کی کہ اب یہ مکان بالکل ٹھیک ہے۔ لہذا حضرت مفتی صاحب نے اپنا سامان اس مکان میں شفٹ کر لیا.

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2025