مفتی زرولی خان صاحب کی زبانی انسانوں اور جنات کے نکاح کا ثبوت

محترم قارئین! آج اپنے اکابر و اسلاف کی تاریخ سے لا علم چند لوگ کہتے ہیں کہ عبقری میگزین میں بیان کردہ جناتی واقعات جھوٹ کا پلندہ ہیں ۔ خاص طور پر جہاں انسانوں اور جنات کی شادی کاذکر ملتا ہے، وہ تو سراسر من گھڑت کہانی ہے۔ بھلا یہ کیسے ممکن ہے؟ آئیے دیکھتے ہیں کہ شیخ الحدیث و التفسیر مفتی زرولی خان صاحب ( الجامعة العربيه احسن العلوم کراچی ) نے انسانوں اور جنات کے نکاح کو کن الفاظ میں بیان کیا ہے۔ حضرت مفتی صاحب فرماتے ہیں کہ : حضرت آدم علیہ السلام سے ہزاروں سال پہلے زمین پر جنات موجود تھے، جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہے کہ ہم نے انہیں آگ کے بھڑکتے ہوئے شعلے سے پیدا کیا۔ جنات کو جب انزال ہوتا ہے تو انسانوں کی طرح پانی نہیں نکلتا بلکہ شعلہ نکلتا ہے۔ اس لیے امام اعظم ابوحنیفہ کے ہاں انسانوں اور جنات کے نکاح کا جواز نہیں ملتا لیکن اس کے باوجود ہمیں انسانوں اور جنات کے آپس میں نکاح ہونے کے کچھ واقعات ملتے ہیں ۔ کافی عرصہ پہلے میں ایک بزرگ سے ملنے گیا تو انہوں نے مجھے پوچھا: کتنے ساتھی ہو؟

میں نے عرض کی ہم چھے ساتھی ہیں۔ انہوں نے اپنے بیٹوں کو پشتو میں کچھ فرمایا تو سامنے سے سب غائب ہو گئے ۔ مجھے فرمانے لگے : میری بیوی جلتی ہے، جس نے دس بچے دیے ہیں۔ جن میں سے پانچ مجھ پر گئے ہیں جو نظر آتے ہیں، جبکہ پانچ اپنی ماں ( جننی ) پر گئے ہیں جو نظر نہیں آتے ۔ یہ سن کر میں نے پوچھا: کیا یہ بات صحیح ہے کہ انزال کے وقت ان سے شعلہ نکلتا ہے؟ فرمایا: ہاں یہ سچ ہے اور ان کے انزال کے وقت انسان کو تکلیف بھی محسوس ہوتی ہے لیکن مجھ پر بھی جوانی کا غلبہ تھا، اس لیے اس نے مجھے نہیں چھوڑا۔

علامہ قاضی بدرالدین شبلی رحمۃ اللہ علیہ آٹھویں صدی کے ایک حنفی محدث گزرے ہیں (انسانوں اور جنات کے آپس میں نکاح کے موضوع پر ) مزید تفصیلات ان کی کتاب ” آکام المرجان فی غرائب الاخبار و احکام الجان میں موجود ہیں ۔ یہ کتاب معتمد ( معتبر ) ہے کیونکہ امام العصر حضرت مولانا انور شاہ کاشمیری رحمۃ اللہ علیہ نے بھی درس حدیث میں لیلۃ الجن والے باب میں اسی کا حوالہ دیا ہے ۔ اسی طرح حضرت امام جلال الدین سیوطی رحمتہ اللہ علیہ نے بھی اخبار الجان“ کے عنوان سے جنات پر ایک کتاب لکھی ہے کیونکہ جنات کی ایک مستقل کائنات ہے۔ یہ کام (یعنی جنات سے نکاح ) مشکل ہے ، اس لیے علماء نے اس سے منع فرمایا ہے کیونکہ انسان میں سے انزال کے وقت قرآنی آیت من منی یمنی کے مطابق منی کا پانی نکلتا ہے لیکن جنات کی تخلیق آگ سے ہے، اس لیے ان میں سے آگ کا شعہ نکلتا ہے۔

لہذا اس امت کے جرنیل امام اعظم ابو حنیفہ نے اسے ناجائز قرار دیا تا کہ کہیں جنات اسے جائز سمجھتے ہوئے انسانوں کو تکلیف میں مبتلاء نہ کریں ) ایک طالب علم کا جنات میں نکاح طے ہو گیا تو ایک جننی روزانہ اس کے پاس آنے لگی ۔ استاذ گرامی مفتی اعظم پاکستان مولانا مفتی ولی حسن ٹونکی رحمۃ اللہ علیہ نے اسے سختی سے منع فرمادیا لیکن ایک دن دو پہر کے وقت دیکھا تو دار الافتاء کے سب اساتذہ سور ہے تھے اور ان کے پیٹ پر مٹھائی کا ایک ایک ٹو کرا رکھا ہوا تھا۔ جو جنات کہیں سے چوری کر کے لائے ہوئے تھے۔ اس موضوع پر بہت عجیب و غریب واقعات ملتے ہیں۔ بہر حال جنات کے متعلق جو شخص تفصیل جاننا چاہتا ہے وہ حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رحمہ اللہ علیہ کی تفسیر فتح العزیز کا مطالعہ کرے۔ کیونکہ شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ بھی ان علماء میں سے تھے جو جنات کے مفتی اعظم اور استاذ ہوتے ہیں۔

www.youtube.com/watch?v=uoMr1yR90cg

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2025