میرے بھائی جان جناب محمد زکی کیفی رحمہ اللہ نے بچپن میں جب لکھنا سیکھا تو حضرت والد (مفتی محمد شفیع) صاحب رحمہ اللہ نے ان سے سب سے پہلا خط حضرت حکیم الامت (مولانا اشرف علی تھانوی) رحمہ اللہ کے نام لکھوایا۔ حضرت رحمہ اللہ نے اس خط کا جو جواب عنایت فرمایا، وہ بھائی جان کیلئے ایک عظیم سعادت تھی۔ حضرت تھانوی رحمہ اللہ نے لکھا: ”برخوردار! السلام علیکم، تمہارے حروف دیکھ کر دل خوش ہوا، تمہاری علمی اور عملی ترقی کی دعا کرتا ہوں۔ خط (لکھائی) ذرا مزید صاف کر لو، اس سے تحریر پڑھنے والے کو راحت ہوتی ہے اور اس نیت سے ثواب بھی ملتا ہے۔ دیکھو! میں تمہیں بچپن سے ہی صوفی بنا رہا ہوں۔ یہ تعویذ (بھیج رہا ہوں) دردِ سر کیلئے سر میں باندھ لو، سب گھر والوں کو سلام و دعا (فقط) اشرف علی (تھانوی رحمہ اللہ)“
(بحوالہ کتاب: نقوشِ رفتگاں، صفحہ 46 مصنف: مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہ، ناشر: مکتبہ معارف القرآن کراچی نمبر 14)
محترم قارئین! الحمدللہ ہمیں اپنے اکابر و اسلاف پر فخر ہے، جو تعویذات و عملیات کو اسبابِ ضعیفہ کہنے کی بجائے اپنی زندگی میں خاص اہمیت دیتے رہے۔ حتیٰ کہ چھوٹے سے مسئلے (سر درد) کیلئے بھی تعویذ کے ذریعے اللہ تعالیٰ سے شفاء طلب کرتے۔ موجودہ دور میں ہمارا پیغام بھی یہی ہے کہ انسان کو جونہی کوئی ضرورت پیش آئے تو اپنے اکابر کی طرح سب سے پہلی نظر اللہ جل شانہٗ کی طرف اٹھے، اعمال سے بننے، اعمال سے پلنے اور اعمال کے ذریعے بچنے کا یہی معنی ہے۔
