( تحریر : مولانا قاری خلیل الرحمن صاحب، فاضل : جامعہ امدادیہ فیصل آباد )
تسبیح خانہ کے درس میں 18/10/2018 بروز جمعرات
بعد مغرب درس میں بیان کیے جانے والے واقعے کا اکابر کی زندگی سے ثبوت مولانا سید محمد حسن صاحب رحمتہ اللہ علیہ جو کہ دار العلوم میں مدرس بھی رہے ہیں آپ نے ایک کتاب لکھی جس پر شیخ الادب حضرت مولانا اعزاز علی صاحب اور مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا محمد شفیع صاحب جیسی عظیم ہستیوں نے تقاریظ لکھیں ۔ اس کتاب کا نام حکیم الامت مجد دملت مولانا اشرف علی تھانوی نے خود وهب النسيم على نفحات الصلوۃ والتسلیم رکھا۔ اس کتاب کے صفحہ ۳۳ پر ایک بہت حسین واقعہ لکھا ہوا ہے کہ بلخ کا رہنے والا ایک تاجر بڑا دولت مند تھا اور علاوہ دولت دنیا کے اس کے پاس حضور علیہ السلام کے تین بال مبارک بھی تھے، تاجر فوت ہو گیا ، صرف دو ہی اس کے بیٹے تھے، بڑے نے کہا اس کے دو ٹکڑے کر دیتے ہیں آدھا تو لے لے اور آدھا میں، چھوٹے نے کہا میں ہر گز سرکار علیہ السلام کے موئے مبارک کے ٹکڑے نہیں ہونے دوں گا۔ بڑے بھائی نے کہا اگر تجھے موئے مبارک سے اتنی محبت ہے تو تینوں بال لے لے اور ساری دولت دنیا مجھے دے دے۔
چھوٹے نے خوش ہو کر منظور کر لیا اور اپنا حصہ بھی اس کو دے دیا اور سرکار علیہ السلام کے تینوں موئے مبارک لے لیے۔ اب وہ روزانہ بالوں کی زیارت بھی کرتا اور کثرت سے درود و سلام بھی پڑھتا ، قدرت خداوندی سے بڑے کا مال گھٹنا شروع ہو گیا اور چھوٹے کے مال و عظمت میں دن بدن اضافہ ہونا شروع ہو گیا۔ کچھ دنوں کے بعد چھوٹا بھائی فوت ہو گیا تو حضور علیہ السلام نے اس زمانے کے ایک بزرگ کو خواب میں فرمایا کہ لوگوں سے کہہ دو کہ کوئی بھی حاجت یا مشکل کسی کو ہو تو اس لڑکے کی قبر پہ جا کر اللہ سے دعا کرو مقصد پورا ہو گا چنانچہ اس کے بعد اس لڑکے کے مزار کی بڑی عظمت ہو گئی ۔ مدارج النبوۃ واشرف التفاسیر ص ۱۳۸ میں ہے کہ شاہ ھرل کو سر درد رہتا تھا کئی علاج کیسے شفا نہ ہوئی ، خوش قسمتی سے اس کو حضور علیہ السلام کاایک بال مبارک مل گیا اس نے ٹوپی میں ہی کر ٹوپی پہنی تو در دفورا ختم ہو گیا۔ ا
محترم قارئین! الحمد الله تسبیح خانہ میں بیان کیا جانے والا ایک ایک واقعہ اسلاف اور ا کا برگی زندگی میں موجود ہے۔
