قارئین! علامہ لاہوتی صاحب دامت برکاتہم کے کالم ”جنات کا پیدائشی دوست“ پر ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ اگر واقعی حقیقت میں ان کا وجود ہے تو ان کی کیفیات کا دوسروں کو پتہ کیوں نہیں چلتا؟ حالانکہ عام سی بات ہے کہ پیشانی کی آنکھوں سے صرف ظاہری چیزیں نظر آتی ہیں، جب کہ باطنی انوارات و کیفیات دیکھنے اور سمجھنے کیلئے دل کی آنکھوں کا کھلنا ضروری ہے۔ آئیں، ہم اسی ضمن میں چالیس سالہ پرانی کتاب سے ایک واقعہ پڑھتے ہیں۔
حضرت صوفی محمد احمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ ایک مرتبہ میں رمضان المبارک میں عصر کے بعد حضرت مولانا سید زوار شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں دہلی گیا۔ کوئلوں کی انگیٹھی پر سالن پک رہا تھا، حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کتابت میں مصروف تھے اور پتیلی میں چمچ بھی چلاتے جا رہے تھے۔ میں اندر گیا اور سلام کیا۔ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے سلام کا جواب دیا لیکن گزشتہ عادت کے مطابق میری اور گھر والوں کی خیریت دریافت نہ کی، بلکہ کتابت میں مصروف رہے۔ مجھے اس کا بڑا احساس ہوا، لیکن میں نے خاموشی سے مراقبہ کے لیے گردن جھکا لی۔ فوراً کیفیت طاری ہوئی تو دیکھا کہ پورا کمرہ فیض سے معمور ہے۔ بکثرت فیوض نازل ہو رہے ہیں اور حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ انہی انوارات میں مگن ہیں۔ میں نے گھبرا کر آنکھ کھولی تو حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے ڈانٹ کر فرمایا: ڈرے کیوں ہو؟ صوفی صاحب کو پکڑ کر مسجد میں لے جاؤ۔ وہاں پہنچ کر وہ کیفیت ختم ہو گئی۔ اس کے بعد کی ملاقات میں میں نے کمرے کی کیفیات عرض کیں تو حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرمانے لگے: ہمارا کام تو چھپانا ہے، اب اگر اللہ تعالیٰ ظاہر کر دے تو ہم کیا کریں؟
(بحوالہ کتاب: مقاماتِ زواریہ سوانح حیات حضرت مولانا سید زوار حسین شاہ صاحبؒ، صفحہ نمبر 341، مصنف: حاجی محمد اعلیٰ قریشی۔ ناشر: ادارہ مجددیہ ناظم آباد نمبر 3 کراچی)
قارئین! ہو سکتا ہے کہ یہی ماجرا علامہ لاہوتی صاحب دامت برکاتہم کے ساتھ ہو، یعنی وہ رہتے تو عام انسانوں ہی کی طرح ہوں مگر ان کے انوارات، کیفیات، روحوں اور جنات کے ساتھ ملاقات کو سمجھنے کیلئے بھی عام آدمی کو دل کی آنکھیں کھلوانے کی ضرورت ہے۔
