( مولانا محمد عبد الغفار صاحب کوٹ ادو)
اكابر پر اعتماد بیچ پر ابھی دو پوسٹیں نظر بد کی تباہ کاریوں پر ڈالی گئی اللہ پاک ” آپ کی اس کوشش کو قبول کرے شیخ الوظائف دامت برکاتہم کے اس موضوع پر بیانات بہت ہی زیادہ ضروری تھے ۔ آجکل ہماری اس موضوع سے نظر بالکل ہی ختم ہوگئی ہے اور ہمارے منبروں پر سوائے ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے کے اور کچھ ملتا ہی نہیں ہے۔ تاریخ کے ایک بہت بڑے بزرگ خواجہ احمد سراج الدین کا انتقال صرف نظر بد ہی کی وجہ سے ہوا ہے۔ مولانامحمد روح اللہ نقشبندی صاحب لکھتے ہیں کہ حاجی محمد اورنگ خان مدظلہ، کے دادا دلاور خان اور دیگر خواتیں گردو نواح ( موسیٰ زئی شریف ) کا قدیم سے اس بات پر اتفاق چلا آ رہا ہے کہ حضرت خواجہ احمد سراج الدین صاحب نوراللہ مرقدہ کسی بد خصلت کی نظر بد کا شکار ہوئے جس کے بعد آپ جانبر نہ ہو سکے۔ جبکہ طبی نقطہ نظر سے بالصراحت یہ بات پایہ تحقیق کو پہنچ چکی ہے کہ آپ کو بخار کے بار بار آنے سے جگر اور انٹریوں کا مرض لاحق ہو گیا تھا ہو سکتا ہے یہ بھی نظر بد کا ہی شاخسانہ اور نتیجہ ہو۔ حضرت خواجہ محمد عثمان دامانی صاحب کے صاحب الرائے خدام حضرت خواجہ محمد سراج الدین صاحب کی خدمت اقدس میں دست بستہ عرض کر چکے تھے کہ حضور والا ہر بات ہر ایک کو آتے ہی پوری کیفیات کے ساتھ نہ بتایا کیجئے ہمیشہ ہی سے حاسدین شر انگیزی کی تاک میں رہے ہیں لیکن حضرت خواجہ نے سنی ان سنی کرتے ہوئے اپنی روش کو جاری و ساری رکھا جس کے سبب آپکو نظر لگ گئی جو جان لیوا ثابت ہوئی ۔
( مقتدائے اسلام اور صوفیائے کرام کے آخری لمحات ص 446 مصنف : مولا نا روح اللہ صاحب نقشبندی ، ناشر: دار الاشاعت کراچی)
محترم قارئین! آپ کو اندازہ ہو گیا ہو گا کہ شیخ الوظائف دامت برکاتہم کے اس موضوع پر بیانات ہمارے معاشرے کی اشد ترین ضرورت تھے۔۔۔!
