نظر بد کی تباہ کاریاں تعلیمات اکا بڑ کی روشنی میں

(مولانا فضیل شمسی صاحب، فاضل جامعہ دارالتقویٰ، لاہور)

زندگی میں قدم قدم پر پریشانی، دکھ اور تکلیفوں کی ایک اہم وجہ نظرِ بد ہے، دعاؤں میں دیں شیخ الوظائف دامت برکاتہم کو جو آج اس مادی دور کے اندر بھی ہمیں ہمارے بڑوں سے جوڑے ہوئے ہیں جبکہ آج اپنے اپنوں سے دور ہو چکے ہیں۔۔۔!

(1) علامہ حافظ ابن کثیرؒ فرماتے ہیں کہ نظرِ بد کا لگنا اور اثر انداز ہونا برحق ہے۔ (تفسیر ابن کثیر ج 10 ص 410)

(2) علامہ حافظ ابن حجرؒ فرماتے ہیں کہ نظرِ بد کی حقیقت کچھ یوں ہے کہ ایک بری طبیعت کا انسان اپنی حاسدانہ نظر جس شخص پر ڈالے تو اُسے نقصان پہنچے۔ (فتح الباری ج 10 ص 200)

(3) علامہ امام ابن اثیرؒ فرماتے ہیں کہ دشمن یا حسد کرنے والے شخص کی نظریں جب اس پر پڑتی ہیں تو وہ بیمار ہو جاتا ہے۔

(النهایہ ج 3 ص 332)

(4) علامہ حافظ ابن قیمؒ فرماتے ہیں کہ کچھ کم علم لوگوں نے نظرِ بد کی تاثیر کو باطل قرار دیا ہے اور ان کا یہ کہنا کہ یہ توہم پرستی ہے۔۔۔! حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ سب سے زیادہ جاہل اور ارواح کی صفات اور ان کی تاثیر سے ناواقف ہیں اور ان کی عقلوں پر پردہ پڑا ہوا ہے۔

حضرت امِ سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے میرے گھر کے اندر ایک لڑکی دیکھی جس کے چہرے پر سیاہ نشانات تھے۔ ارشاد فرمایا کہ اس پر کچھ پڑھ کر دم کرو کیونکہ اس کو نظر لگ گئی ہے۔

(بخاری، الصحیح، رقم: 5407۔ مسلم، الصحیح، رقم: 2197)

حضرت امام الفراءؒ نے لکھا ہے کہ یہ سیاہ نشان جنات کی نظرِ بد کی وجہ سے تھا۔

شیخ وحید عبدالسلام بالی حفظہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جس طرح انسان کی نظرِ بد اثر انداز ہوتی ہے اسی طرح جنات کی نظرِ بد بھی اثر انداز ہوتی ہے، اس لئے مسلمان کو چاہیے کہ وہ جب بھی اپنے کپڑے اتارے یا شیشہ دیکھے یا کوئی بھی کام کرے تو ”بسم اللہ“ پڑھ لیا کرے تاکہ جنات اور انسانوں کی نظرِ بد کی تاثیر سے محفوظ رہ سکے۔

محترم قارئین! آج اس پرفتن دور میں شیخ الوظائف دامت برکاتہم ہمیں جو بے لوث جو سودا دے رہے ہیں اللہ پاک ہی انھیں اپنی شان کے مطابق جزائے خیر عطا فرمائے

آپ تمام دوست عبقری کیلئے نظرِ بد سے حفاظت کی ضرور دعا کیا کریں۔۔۔!

پوسٹ کو شیئر کریں

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026