نماز میں تقدیم و تاخیر اور شیخ الاسلام دامت برکاتہم کی سہولت

(مولانا خلیل الرحمن صاحب، جامعہ امدادیہ فیصل آباد )

 بے دینی ، فحاشی، عریانی اور فتنوں کے اس دور میں آج جس قدر لوگ دین سے دور ہوتے جارہے ہیں وہ ہم سب کے سامنے ہے لوگ آج اللہ رسول سل یا پیلم کے دیئے گئے فرائض سے کوسوں دور چلے گئے آج ضرورت حکمت اور بصیرت کے ذریعے انہیں قریب کرنے کی ہے اس سلسلے میں شرعی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے جس قدر قرآن وسنت کی آسانیاں اور خوشخبریاں ہیں لوگوں کو دینی چاہیں۔ اللہ پاک جزائے خیر عطا فرمائے شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم جیسی بے پناہ صفات کی حامل ہستی کو جوحتی الامکان شرعی احتیاطوں کے ساتھ لوگوں کو سہولت دیتے ہیں ابھی حال ہی میں آپ یورپ کے دورے پر تشریف لے گئے آپ کے ہمسفر شاگرد مولانا شاکر صدیق جکھو را صاحب نے ماہنامہ البلاغ میں آپ کی سفری شرعی رعایت کو اس طرح لکھا ہے:

(1) پہلی منزل دینی کے راستے سے برمنگھم تھی، دین پہنچے تو برمنگھم کی پرواز میں صرف ڈیڑھ گھنٹہ تھا۔ حضرت والا دامت برکاتہم نے بتایا کہ آپ ایک پچھلے موقع پر دبئی کے ہوائی اڈے پر نماز جمعہ کی امامت فرما چکے ہیں لیکن اس مرتبہ وقت کی تنگی کی بنا پر اس کا موقع نہیں۔ چنانچہ ایک مصلیٰ میں نماز ظہر ادا کر کے اور بزنس کلاس لاؤنج سے حسب موقع کچھ ظہرانہ لے کر فورا انگلی پرواز پر سوار ہو گئے۔

(2) جائے قیام پر پہنچ کر مغرب اور ساتھ ہی عشاء کی نماز حضرت والا کی اقتداء میں تقریباً پونے نو بجے ادا کی جب کہ ابھی سورج غروب ہی ہوا تھا۔ حضرت والا نے بتایا کہ ان دنوں میں یہاں شفق احمد بھی غروب نہیں ہوتی ، اس لیے آپ کا معمول یہ ہے کہ ان ایام میں سفر کی حالت میں مغرب اور عشاء کے درمیان جمع حقیقی بھی فرمالیتے ہیں۔ اور پھر نصف الہیل کا انتظار کر کے اس وقت فجر کی نماز ادا کر کے پھر آرام فرماتے ہیں۔

(3) چونکہ صبح کے چھ بجے مالٹا کی پرواز تھی ، اس لیے آج رات نصف اللیل کا انتظار فرمانے کے بجائے ہم نے نماز فجر حضرت شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب) کی اقتداء میں بیدار ہو کر ادا کی ، اور تقریبا چار بجے ہوائی اڈے کیلئے روانہ ہوئے۔

(4) ( وضاحت نامه از مولانا شاکر صدیق جکھو را صاحب شاگرد خاص شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمان صاحب) مقیمین کیلئے قریب تر معتدل علاقہ، یا اسی علاقہ کے قریب تر معتدل دن کے وقت پر عمل کرنے کا حکم ہے، یا پھر غروب اور نصف اللیل کے درمیانی وقت کو مغرب اور عشاء کے درمیان آدھا آدھا تقسیم کیا جائے تا ہم مسافر اور مریض ایسی صورت حال میں مغرب اور عشاء کو ایک ساتھ بھی ادا کر سکتے ہیں۔

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2025