موجودہ دور میں کچھ لوگوں نے دین کے انتہائی حساس شعبے "فتویٰ دینے” کو معمولی مشغلہ سمجھ لیا ہے اور آئے دن قرآن و سنت اور اجماعِ اُمت کے خلاف نت نئے فتوے جاری کرتے رہتے ہیں۔ ماہنامہ عبقری میں شائع ہونے والے شرک و بدعت سے پاک وظائف کو بھی تختہ مشق بنا کر غلط اعتراض کیا جاتا ہے کہ عبقری کے وظائف خود ساختہ ہیں۔ حالانکہ انہیں رٹی رٹائی باتیں بیان کرنے سے وقت نکال کر تھوڑا بہت دین کا علم بھی حاصل کرنا چاہئے، تاکہ انہیں معلوم ہو سکے کہ دَم کرنے، وظائف پڑھنے اور تعویذ استعمال کرنے کا شریعت میں کیا حکم ہے؟
زبدوۃ المحدثین علامہ سید محمد صدیق حسن خانؒ (مکتبہ اہل حدیث) کا فتویٰ:
حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (لا بأس بالرقى ما لم يكن فيه شرك) ایسا دَم کرنے میں کوئی حرج نہیں، جس میں شرک نہ ہو (صحیح مسلم) پس جو دَم (وظائف) زمانہ جاہلیت کے ہوں، یا کفار اور مشرکین کے ہوں، وہ ممنوع ہیں۔ ان کے سوا جو دَم (وظائف) اسلام کے ہوں، یا قرآن و حدیث سے ثابت ہوں، یا علمائے اہلِ توحید سے ماثور ہوں، وہ بلا شک و شبہ جائز ہیں۔ اور سب سے بہتر دَم (وظیفہ) سورۃ الفاتحہ، اخلاص اور معوذتین کا ہے۔
(بحوالہ کتاب: الداء والدواء صفحہ 17 ناشر: مشتاق بک کارنر، اردو بازار، لاہور)
مفتی محمد ایوب نعیمی رضوی مدظلہ (مکتبہ بریلویہ) کا فتویٰ:
یہ ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ جس طرح انسانی جسم بیماری کا شکار ہوتا ہے، اسی طرح اس کی روحانی طاقت بھی کچھ غیر محسوس اور غلط قوتوں کی زد میں آ کر مختلف بیماریوں کا شکار ہو جاتی ہے۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ انسان علاج کی خاطر بے پناہ وسائل استعمال کر کے بھی ناکام رہتا ہے۔ اس لیے شفاء حاصل کرنے کیلئے نقوش (تعویذات) اور عملیات کا سلسلہ زمانہ قدیم سے چلا آ رہا ہے۔
(بحوالہ کتاب: شمع شبستان رضا، صفحہ 6 ناشر: قادری رضوی کتب خانہ، گنج بخش روڈ لاہور)
مفتی محمد عبدالغنی مدظلہ کا فتویٰ:
سنن ابی داؤد میں حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر مرض کا علاج رکھا ہے، اس لیے تم علاج کرولیکن حرام چیز سے نہ کرو”۔ اکابر و مشائخ کا ہمیشہ سے یہ عمل رہا ہے کہ وہ قرآنی آیات اور دعاؤں کو لکھ کر اس کا دھویا ہوا پانی مریضوں کو پلاتے ہیں اور اس سے شفاء بھی ہو جاتی ہے۔ ملّاعلی قاریؒ کا بھی یہی فرمان ہے کہ قرآنی آیات، اسمائے حسنیٰ یا ماثورہ دعاؤں سے علاج کرنا نہ صرف جائز ہے، بلکہ افضل ہے۔ چاہے یہ علاج تعویذ کی شکل میں ہو، یا دَم اور منتر کی صورت میں۔
بحوالہ کتاب: مستند علاج نبوی ﷺ صفحہ 13 تالیف: الشیخ احمد بن محمود الدیب، ترجمہ: مفتی محمد عبدالغنی فاضل بنوری ٹاؤن، ناشر: درخواستی کتب خانہ، علامہ بنوری ٹاؤن، کراچی
