وظیفہ تو ہوتا ہی "خودساختہ” ہے

کچھ لوگ کہتے ہیں کہ عبقری میگزین کے خودساختہ وظائف کی کیا سند ہے؟ جبکہ اس میگزین میں وظائف لکھنے والے سب لوگ عالمِ دین نہیں ہوتے، بلکہ عام قارئین بھی اپنے روحانی عملیات اس میں بھیجتے رہتے ہیں۔ تو کیا یہ تمام وظائف پڑھنا جائز ہیں؟


اس سوال کا جواب چند آسان مثالوں کے ذریعے درج ذیل ہے۔

محترم قارئین! سب سے پہلے تو یہ سمجھیں کہ وظائف کلی طور پر خودساختہ ہوتے ہیں۔ یعنی قرآن میں آیات اور احادیث میں مسنون دعائیں تو موجود ہیں، لیکن ان کا طریقۂ استعمال علماء، محدثین اور روحانی عاملین خود طے کرتے ہیں۔
جس طرح ادویات کے اجزاء تو موجود ہوتے ہیں، مگر ان کو آپس میں ملا کر خاص مقصد کے لیے دوا خود تیار کی جاتی ہے، اسی طرح عملیات کے شعبے میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ ہمارے اکابر و اسلاف نے کس وظیفے کو کس مقصد کے لیے پڑھا اور اس سے مزید کیا کیا فائدہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ شریعت میں بس اتنا حکم ہے کہ صرف وہ وظیفہ پڑھنا یا وہ دم کرنا حرام ہے، جس میں شرکیہ الفاظ ہوں۔ اس کے سوا باقی تمام اذکار جائز ہیں۔

جیسا کہ حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے متعلق کئی کتابوں میں یہ بات ملتی ہے کہ وہ اپنے پاس آنے والے لوگوں کے مسائل سنتے تھے، پھر ان مسائل سے ملتی جلتی آیات یا ماثورہ دعاؤں کا وظیفہ پڑھنے کے لیے بتا دیتے تھے۔ وہ شخص جا کر جب اس آیت کی تکرار کرتا، تو اس کا مسئلہ حل ہو جاتا اور کوئی یہ اعتراض بھی نہ کرتا کہ تمہیں یہ خودساختہ وظیفہ کس نے بتایا ہے؟

مکتبہ اہل حدیث کے معروف روحانی عامل مولانا محمد اقبال سلفی نے بیری کے پتوں سے نہانے کو جنات سے جان چھڑوانے کا کامیاب علاج بتایا۔ تو کسی شخص نے ان سے اس عمل کی دلیل مانگی۔ فرمانے لگے کہ: عملیات کی دنیا میں جو بات مشاہدات کے ذریعے سامنے آتی ہو، وہ زیادہ قوی (مضبوط) ہوتی ہے، البتہ اس کی شرط یہ ہے کہ وہ چیز حدیث سے نہ ٹکراتی ہو۔ بیری کے پتوں سے نہانے میں چونکہ کوئی غیر شرعی چیز نہیں، اس لیے اس میں کوئی قباحت نہیں۔

صاحبزادہ حضرت شیخ محمود الحسن صدیقی (مکتبہ بریلویہ) لکھتے ہیں کہ تعویذات اور عملیات بے اثر نہیں ہوتے، کیونکہ ہر تعویذ اور ہر عمل کا تعلق علم سے ہے، اور جو تعویذات اور عملیات اس علم کے عالموں نے تحریر کیے ہیں، وہ تجربے اور عمل کے بعد ہی درج کیے جاتے ہیں۔

مولانا انظر شاہ کاشمیری لکھتے ہیں:
اس نادر کتاب (اسماء الحسنیٰ کی برکات) میں ایسے وظائف درج کیے جا رہے ہیں، جن کو اکثر مشائخِ عظام اور اولیاء اللہ نے اپنے معمولات میں داخل رکھا ہے۔ اور ان کے ذریعے بہت سے طالبانِ حق کے نفوس کی منجھائی اور قلوب کی صفائی کر چکے ہیں۔

قارئین! اس کے بعد پوری کتاب میں ایسے تمام عملیات، تعویذات، وظائف اور نقش درج کیے گئے ہیں، جن کی نہ تعداد قرآن سے ثابت ہے، نہ ہی پڑھنے اور لکھنے کا طریقہ حدیث میں لکھا ہوا ہے۔ اس کے باوجود پورے مکتبہ فکر کے ہاں اس کتاب کو معتبر حیثیت حاصل ہے۔

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2025