وہ صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ جن کے پیٹ میں جن داخل ہو گیا

قسط نمبر 94
وہ صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ جن کے پیٹ میں جن داخل ہو گیا

اکابر پر اعتماد
کچھ لوگ ایک بے بنیاد اعتراض کرتے ہیں کہ ماہنامہ "عبقری” میں جتنی بھی جنات کی باتیں یا اُن سے ملاقاتیں بیان کی جاتی ہیں، یہ سب خود ساختہ کہانیاں ہیں۔ بھلا جنات ہمیں کیسے چمٹ سکتے ہیں؟ حالانکہ ایسے لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ جنات تو صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم جیسی عظیم ہستیوں پر بھی حملہ آور ہو جاتے تھے، تو ہم کس کھیت کی مولی ہیں؟

آئیے، احادیث سے اس بات کا ثبوت ملاحظہ کریں۔

حضور سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

"تمہارے ہر کام کے وقت، حتیٰ کہ کھانے کے وقت بھی، شیطان تم میں سے ہر ایک کے ساتھ رہتا ہے۔ لہٰذا جب کسی کے ہاتھ سے لقمہ گر جائے تو اسے چاہیے کہ اس کو صاف کر کے کھالے اور شیطان کے لیے نہ چھوڑے۔”
— (صحیح مسلم)

حضرت مولانا محمد یونس پالنپوری دامت برکاتہم اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

"شیاطین اور فرشتے اللہ تعالیٰ کی وہ مخلوق ہیں جو یقیناً ہر وقت ہمارے ساتھ رہتی ہے، لیکن ہم انہیں نہیں دیکھ سکتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے میں جو کچھ بتایا، وہ اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ علم کی بنیاد پر بتایا، اور وہ سراسر حق ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی کبھار ان کا مشاہدہ بھی ہوتا تھا، جس طرح ہم مادی چیزوں کو دیکھتے ہیں۔ اس لیے ایسی احادیث جن میں شیطانوں (یعنی جنات) کا ذکر ہے، انہیں مجاز پر محمول کرنے کی کوئی ضرورت نہیں، بلکہ یہ ایک کھری حقیقت ہے۔”

— (بحوالہ: کتاب بکھرے موتی، صفحہ 479، ناشر: بلسم پبلیکیشنز، اردو بازار، لاہور)

مولانا محمد الیاس قادری مدّ ظلّہ العالی المعروف "بابا جی” دامت برکاتہم لکھتے ہیں:

"ایک عورت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے بیٹے کو لے کر آئی اور عرض کرنے لگی: یا رسول اللہ! میرے بیٹے کو جنون کا دورہ پڑتا ہے، اور یہ ہمیں بہت تنگ کرتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سینے پر دستِ شفقت پھیرا اور دعا فرمائی۔ اس وقت اس لڑکے کو قے آئی، تو اس کے پیٹ سے سیاہ کتے کے پِلّے کی مانند کوئی چیز نکلی۔”

— (مسند دارمی، جلد 1، صفحہ 24)
— (بحوالہ: کتاب قومِ جنات اور امیرِ اہلِ سنت، ناشر: مکتبۃ المدینہ، کراچی)

محترم قارئین!
اب بھلا ایسی بدقسمتی اور گمراہی کس پر غالب ہوگی، جو حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث میں بیان کردہ ان حقائق کو خود ساختہ کہانیاں قرار دے کر رد کرتا پھرے؟

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2025