Chori Se Hifazat Ka Aik Anokha Amal

چوری سے حفاظت کا ایک انوکھا عمل

ماہنامہ عبقری میں مخلوقِ خدا کے نفع کیلئے ایسے ہی اعمال شائع ہوچکے ہیں، جن کی برکت سے مال و اسباب کے چوری ہونے سے حفاظت رہتی ہے، اور اس میں اہم بات یہ ہے کہ عبقری میں دیا جانے والا کوئی بھی عمل شریعت سے نہیں ٹکراتا، یعنی ہر عمل قرآن و سنت، صحابہ واہلِ بیت رضی اللہ عنہم واکابر و اسلافِ رحمہم اللہ کے معمولاتِ زندگی میں موجود ہوتا ہے۔ کیونکہ عبقری کے وظائف کے متعلق شک و شبہے کا اظہار کرتے ہیں، تو ہمیں چاہیے کہ اپنے اکابر و اسلافؐ کے حالاتِ زندگی کا مطالعہ کرنا بھی اپنی مصروفات میں شامل کرلیں، اس سے نہ صرف علم میں اضافہ ہوگا، بلکہ اکابرین اُمت کی طرزِ زندگی عافیتوں اور برکتوں کا مجموعہ بھی بن جائے گی۔ ان شاء اللہ!

حکیم محمد فاروق صاحب (مدرس جامعہ فاروقیہ) لکھتے ہیں کہ: حضرت شاہ محمد اسحاق دہلویؓ بھی حرم شریف میں دل سے تو جوق تھے دروازے پر بٹی چھوڑ جاتے تھے، حالانکہ وہاں جوتے کا کھو جانا بہت مشکل تھا، لیکن حضرت شاہ محمد اسحاق دہلویؓ کا جوتا کبھی چوری نہ ہوا تھا۔ لوگوں کو اس بات پر تعجب تھا۔ ایک مرتبہ کسی نے پوچھا کہ آپ کا جوتا چوری نہ ہونے کی وجہ کیا ہے؟ تو فرمایا: لگے میں جس وقت جوتا اُتارتا ہوں، یہ نیت کر لیتا ہوں کہ میرا جوتا چور کیلئے حلال ہے۔ پھر چور چونکہ چوری کی قسمت میں ہے، اس لیے میرا جوتا چوری نہیں ہوتا

اسی طرح مولانا یعقوب مہاجر مکی رحمہ اللہ کے قیام کے دوران کچھ سامان خریدنے بازار تشریف لے گئے ۔ اشرفیوں کی تھیلی ہاتھ میں تھی۔ ایک بدو آیا اور اشرفیوں کی تھیلی چھین کر بھاگ گیا۔ مولانا جلدی سے اپنے مکان میں داخل ہوگئے اور یہ کہتے ہوئے دروازہ بند کردیا کہ میں وہ تھیلی اس چور کیلئے حلال کر دی۔ لیکن چور جس طرف بھی جاتا تھا، اسے رستہ بند پاتا تھا۔ بار بار اسی جگہ آیا اور معافی مانگتے ہوئے تھیلی واپس کر دی (حوالہ: کتاب ملفوظات مفتی محمود حسن گنگوہی ص 252:134 ناشر دارُالہُدیٰ کراچی)



محترم قارئین
حضرت شاہ محمد اسحاق علیہ الرحمۃ و جلیلُ القَدر محدث ہیں، جنہیں شاہ عبدالعزیز محدثِ دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی مسندِ حدیث کا وارث بنایا۔ جو لوگ اپنے اکابر و اسلافؓ کی ترتیبِ زندگی سے غافل ہو کر عبقری میں شائع کیے جانے والے حقائق پر اعتراض کرتے ہیں، کیا وہ بندے سے ہمدردی کے درج بالا اعمال کو خارج از سند اور متضرر ہوتے کی جُرأت کرسکتے ہیں؟

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2025