عبقری حویلی احمد پور میں شیخ الوظائف دامت برکاتہم نے چھپکلی مارنے کے متعلق ذکر فرمایا تھا کہ اسے مارنے پر ثواب ملتا ہےیہ بات آپ نےاپنی طرف سے بیان نہیں کی تھی بلکہ صحیح احادیث مبارکہ کی روشنی میں بیان کی تھی ان روایات کی تخریج اور تشریح اکابرؒ پر اعتما د کے دوستوں کی خدمت میں پیش ہے :
(1)حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص چھپکلی کو پہلی مار میں مار ڈالے اس کو اتنا ثواب ہے اور جو دوسری مار میں مارے اس کو اتنا اتنا ثواب ہے لیکن پہلی بار سے کم اور جو تیسری بار میں مار ڈالے اس کو اتنا اتنا ثواب ہے لیکن دوسری بار سے کم۔“
(حدیث نمبر:۲۲۴۰،ج:۴، ص:۱۷۵۸،ط:دارإحیاء التراث العربی اخرجہ احمد فی مسندہ :٤ ١/ ٢٩٦ ( ٨٦٥٩)، ط: مؤسسۃ الرسالۃ، ابن ماجہ فی سننہ: ٢ /١٠٧٨ (٣٢٢٩)، ط: دار احیاء الکتب العربیۃ ، و الترمذی فی سننہ:٣ /١٢٨ ( ١٤٧٢)، ط:دارالغرب العربی، و البیھقی فی سننہ الکبری : ٢ / ٣٧٨ (٣٤٤٢)، ط: دارالکتب العلمیۃ ۔
تشریح : حضور اکرم ﷺ نے گرگٹ اورچھپکلی کو مارنے کا حکم دیا ہے اور ان کا نام فاسق(شرارتی ) رکھا ہے اور فرمایا کہ جب نمرود نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا تو یہ (چھپکلی ) اس آگ کو بھڑکانے کے لئے اس میں پھونک مارتی تھی۔یہ موذی جانور ہے ، انسان کو ہر ممکن ضرر پہنچانے کی کوشش کرتی ہے ، برتن میں تھوکتی ہے اور نمک میں رال ٹپکا تی ہے، جس کی وجہ سے برص کی بیماری پیدا ہوتی ہے اور کچھ بس نہیں چلتا تو چھت وغیرہ پر چڑھ کر کھانے میں بیٹ کرتی ہے، اس وجہ سے آپ ﷺ نے اس کے مارنے کا حکم دیا ہےاورحدیث میں پہلی مار میں مارنے کاحکم دیا گیا ہے، تو یہ اس کو جلد مارنے کی ترغیب کے طور پر کہا گیا ہے اور ایک وجہ یہ بھی ہے کہ بسا اوقات اگر پہلی بار میں چھوٹ جائے تو پھر ہاتھ نہیں آتی، اس لیے اس کو بھاگنے کا موقع دیے بغیر ہی مار دینا چاہیے۔
مسلم شریف کی ایک اور روایت میں پہلے وار سے مارنے والے کے لئے 100 نیکیاں لکھے جانے کا ذکر ہے اور سنن أبی داؤد کی روایت میں ہے کہ پہلے وار میں مارنے والے کو70 نیکیاں ملیں گی۔
(سنن أبی داؤد:حدیث نمبر:۵۲۶۴،ج:۴،ص:۳۶۶،ط:المکتنۃالعصریۃ۔تحفۃالأحوذی:ج:۵،ص:۴۸،ط:دارالکتب العلمیۃ۔کذا فی الدر المنضود شرح سنن أبی داؤد:ج:۶،ص:۶۵۶،ط:مکتبۃ الشیخ۔ کذا فی تحفۃالألمعی:ج:۴،ص:۴۱۸،ط:زمزم پبلیشرز بحوالہ دارالافتاء الاخلاص، کراچی)
(2)چھپکلی کو مارنا ثواب ہے، اور پہلی مرتبہ مارنے پر ثواب زیادہ ہوتا ہے، جیسا کہ ترمذی شریف کی روایت میں ہے۔
(رواہ الترمذي وقال: حدیث أبي ہریرة حدیث حسن صحیح: ۱/۲۷۳، أبواب الصید، باب في قتل الوزغ، ط: مریم أجمل فاوٴنڈیشن ممبئی إنڈیابحوالہ دار الافتاء انڈیا41968)
3) چھپکلی اور گرگٹ کو مارناسنت اور باعث اجر وثواب فعل ہے۔ شیخ صالح العثیمن رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
أما قتل الوزغ فإنه سنة وفيه أجر عظيم۔
(فتاوی نور علی الدرب:جزء111، ص41، المکتبة الشاملة)
(4)۔چھپکلی موذی یعنی تکلیف دینے ولا جانور ہے، کبھی کبھی وہ کھانے میں اپنا لعاب یعنی تھوک ڈل دیتی ہے، تو کھانے میں زہریلے اثرات پیدا ہوجاتے ہیں، اور حدیث میں بھی اسکو مارنے کا حکم ہے، اس لئے اسے مارنا جائز بلکہ باعثِ ثواب ہے۔
(فتاوی رحیمیہ۱۰ ص۱۸۶)
(5)۔حضرت سائبہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں حضرت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر گئی تو دیکھا کہ گھر میں ایک برچھا رکھا ہو اہے تو عرض کیا کہ اے ام المومنین آپ اس سے کیا کرتی ہیں تو فرمانے لگیں ہم اس سے گرگٹ اور (چھپکلیاں) مارتے ہیں اس لیے کہ ہمیں اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا کہ جب سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا گیا توزمین کے ہر جانور نے آگ بجھانےکی کوشش کی سوائے گرگٹ کے کہ وہ اس میں پھونک ماررہا تھا (تاکہ اور بھڑکے) اس لیے اللہ کے نبی ﷺ نے اسے مارنے کا حکم فرمایا ۔
(سنن ابن ماجہ حدیث نمبر 2331 بحوالہ عثمانی دالاافتاء)
اللہ کے فضل و کرم سے تسبیح خانہ کےمنبر سے بیان ہونے والی بات دین اور شریعت کے عین مطابق اور تعلیمات اکابر کی ترجمان ہوتی ہے ۔
