ڈلیوری کیلئے اکابر کا مجرب عمل


سالہا سال سے ماہنامہ عبقری مخلوق خدا کو اکابرین امت کے اعمال میں ڈھالنے کی خدمت کر رہا ہے۔ اس میں دیے جانے والے تمام وظائف (خواہ وہ کسی بھی مقصد کیلئے ہوں ) سو فیصدا کا بر و اسلاف کی ترتیب کے مطابق ہوتے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے قارئین عبقری کو ڈلیوری میں آسانی کیلئے سورہ انشقاق کا عمل دیا گیا تو اس پر جہاں ہزاروں لوگوں کی طرف سے پسندیدگی کا اظہار ہوا، وہاں کچھ لوگوں نے یہ بھی کہا کہ عبقری نئے نئے وظائف بناتا ہے۔ حالانکہ انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ ماہنامہ عبقری وظائف بناتا نہیں بتاتا ہے۔

شیخ الحدیث مولانا محمد عبد اللہ درخواستی رحمة الله لکھتے ہیں کہ سورۃ الانشقاق کی ابتدائی چار اور سورۃ زلزال کی ابتدائی دو آیات لکھ کر پہلے حاملہ خاتون کو تین مرتبہ دکھا ئیں، پھر اس کی بائیں ران پر
باندھ دیں

مولانا محمد ولی اللہ منصور پوری طی شیمی ( مکتبہ اہل حدیث) لکھتے ہیں کہ : بچے کی پیدائش سے پہلے جو درد ہو، اسے ختم کرنے اور پیدائش میں آسانی کیلئے ان آیات کو لکھ کر عورت کی دائیں ران پر باندھ دیا جائے تو ان شاء اللہ آسانی ہوگی اور انجام بخیر ہوگا۔ پیدائش کے فوراً بعد یہ تعویذ اتار دینا چاہئے ۔

بسم الله الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ (1) وَأَذِنَتْ لِرَيْهَا وَحُقَّتْ (2) وَإِذَا الْأَرْضُ مُدّت (3)
وَأَلْقَتْ مَا فِيهَا وَتَخَلّت (4)

( بحوالہ کتاب: تحفۃ العالمین صفحہ 7 ناشر: رشید بک ڈپو، کچہری بازار، جڑانوالہ )

مولانا محمد الیاس عطار قادری رضوی ( مکتبہ بریلویہ ) لکھتے ہیں کہ: سورۃ الانشقاق کی ابتدائی 4 آیات لکھ کر کپڑے میں لپیٹ کے عورت کی بائیں ران پر باندھیں ۔ ان شاء اللہ بچہ آسانی کے ساتھ پیدا ہوگا۔


سرکار علامہ رشید ترابی ( مکتبہ اثناء عشریہ ) لکھتے ہیں کہ جس آدمی کی جورو ، دردزہ میں مبتلاء ہو، اسے چاہئے کہ ایک قرطاس پر کالی سیاہی والے قلم سے یہ آیات لکھے اور اپنی جورو کی داہنی طرف ران پر بندھوا د – وَأَلْقَتْ مَا فِيهَا وَ تَخَلتُ وأذنت ليها وحلف بر خیال رہے کہ یہ تعویذ اسی وقت باندھا جائے ، جب ولادت کے آثار پیدا ہو جائیں۔ ورنہ بارہا دیکھنے میں آیا ہے کہ جو نہی ان آیات کا تعویذ باندھا گیا، اسی وقت پیدائش ہوگئی۔ لہذا قبل از وقت پیدائش نو مولود کی صحت کیلئے مضر ہے۔


محترم قارئین ! اب آپ خود سوچیں کہ اگر عبقری کے وظائف من گھڑت ہوتے تو تمام مکاتب فکر کے اکابرو اسلاف کی سالوں پہلے لکھی گئی کتب میں ان کا ثبوت کیسے ملتا؟

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2025