فحاشی عریانی اور دیگر گناہوں کی بدولت آج جنات ہم پر اتنے بہادر ہو گئے ہیں کہ ہماری زندگی کو بہت زیادہ متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔ علامہ لاہوتی صاحب دامت برکاتہم العالیہ نے جنات کی شرارت اور ان کے اغواء کرنے کے واقعات کو اپنے کالم میں تفصیل کے ساتھ بیان کیا تو عقل پرست لوگ تماشائی بن کر اس پر تمسخر کرنے لگے کہ کس طرح کسی انسان کو جنات اپنے عالم میں لے جا سکتے ہیں اور کوئی کیونکر جنات کے عالم میں رہ سکتا ہے۔۔۔ حدیث کے دو معتبر واقعات ہمیں ایمان بالغیب کی دعوت کچھ اس طرح دے رہے ہیں۔ پڑھیں اور عقل کے نہیں، عشق کے ترازو میں اپنے آپ کو تولیں۔۔!
ایک انصاری صحابی رضی اللہ عنہ عشاء کی نماز کے لیے گھر سے نکلے تو ان کو جنات نے اغواء کر لیا اور کئی سال تک غائب رکھا۔ پھر وہ مدینہ منورہ تشریف لائے تو امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے اس سلسلے میں دریافت کیا تو انہوں نے بتایا کہ مجھے جنات پکڑ کر لے گئے تھے اور میں ایک زمانہ تک ان کے پاس رہا۔ اس کے بعد مسلمان جنات نے (ان جنات سے) جہاد کیا اور ان میں سے بہت سے افراد کے ساتھ مجھے بھی قید کر لیا۔ انہوں نے مجھے اختیار دیا کہ چاہے میں ان کے پاس قیام کروں یا اپنے اہل و عیال کے پاس چلا جاؤں۔ میں نے گھر آنے کو اختیار کر لیا تو وہ جنات مجھے مدینہ منورہ لے آئے۔
(بحوالہ: آکام المرجان فی احکام الجان باب 35 ص 76 ملخصاً بحوالہ کتاب: قوم جنات اور امیر اہلسنت ص 125، پیش کش مجلس مدینۃ العلمیہ، ناشر: مکتبہ المدینہ کراچی، مکتبہ بریلویہ)
"خرافہ” قبیلہ عذرہ کا ایک شخص تھا جسے زمانہ جاہلیت میں جنات نے قید کر لیا۔ وہ طویل عرصہ ان میں رہا پھر ان (جنات) نے اسے آزاد کر کے انسانوں کی طرف روانہ کیا۔ اس نے وہ تمام عجائبات لوگوں کو سنائے جو اس نے جنوں میں دیکھے تھے۔ پھر لوگ ہر عجیب بات کے بارے میں یہ (محاورہ) کہنے لگے : یہ تو حدیثِ خرافہ ہے۔ شمائل المحمدیہ والخصائص المصطفویہ للترمذی (بحوالہ کتاب قوم جنات اور امیر اہلسنت ص 124، پیش کش مجلس مدینۃ العلمیہ، ناشر: مکتبہ المدینہ کراچی، مکتبہ بریلویہ)
