عبقری میگزین میں بعض اوقات حضرت علامہ لاہوتی پراسراری صاحب دامت برکاتہم العالیہ ایسی عمارتوں کا ذکر فرماتے ہیں جو عام انسان کی رسائی سے دور ہوتی ہیں ، صرف خواص اولیائے کرام یا جنات ہی ان عمارتوں تک پہنچ پاتے ہیں۔ جیسے شاہی قلعہ لاہور میں موجود سفید محل، اہرام مصر میں چھپے کا ئناتی اسرار وغیرہ وغیرہ ۔۔ بعض لوگ ایسے واقعات پڑھ کر کچھ سوچے سمجھے بغیر فوراً بے یقینی میں مبتلاء ہو جاتے ہیں کہ بھلا ایسا کس طرح ممکن؟علامہ لاہوتی صاحب سے پہلے تو کسی شخص نے ایسے دعوے نہیں کیے۔ حالانکہ اگر ہم مطالعے کا ذوق بڑھا ئیں اور اپنے اکابر واسلاف کے واقعات پڑھیں تو ایسے بے کاذوق بڑھائیں تو ایسے بے شمار حقائق ہماری معلومات میں اضافہ کرتے نظر آتے ہیں۔ مثلاً مولانا ارسلان بن اختر میمن لکھتے ہیں :
حضرت عبداللہ بن قلا بہ رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ اپنے اونٹ کو تلاش کرتے کرتے یمن کے علاقے عدن کے جنگل میں پہنچ گئے۔ وہاں انہوں نے ایک عالی شان قلعہ دیکھا، جس کا دروازہ بہت بڑا تھا اور اس پرقیمتی پتھروں سے بینا کاری کی گئی تھی۔ اس عظیم الشان دروازے کو دیکھ کر وہ خوف زدہ ہو گئے کہ کہیں یہ شداد کی وہی جنت تو نہیں ، جس کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دی تھی۔ پھر ذرا ہمت کر کے اندر داخل ہو گئے تو دیکھا کہ وہاں تمام محلات ، نہریں اور درخت ایسی خوبصورتی سے بنائے گئے ہیں کہ دنیا میں ان کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔ واقعی کسی نے اپنے لیے جنت بنوانے کی پوری محنت کی ہوئی تھی ۔ ہر چیز اپنے کمال کو پہنچی ہوئی تھی لیکن حیرت کی بات یہ کہ وہاں کوئی ذی روح بسنے والا نہیں تھا۔ لہٰذا انہوں نے وہاں سے کچھ یا قوت اور زعفرانی مٹی لی اور اپنے علاقے میں واپس پہنچ کر وہاں کے لوگوں کو اس عجیب سفر کی روداد سنائی۔ یہ قصہ یمن سے شام میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ تک پہنچا تو انہوں نے خط لکھ کر ان صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پاس بلوالیا۔
پھر ان سے اس واقعے کی تفصیل پوچھتے ہوئے فرمایا: کیا یہ سب کچھ آپ نے خواب کی حالت میں دیکھا تھا ؟ حضرت عبداللہ بن قلابہ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے نہیں! اور پھر انہوں نے وہاں کے یا قوت اور زعفرانی مٹی ان کے سامنے پیش کر دی۔ یہ دیکھنے کے بعد حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت کعب الاحبار رضی اللہ عنہ کو بلایا اور پوچھا: کیا دنیا میں سونے چاندی کی کوئی عمارت موجود ہے؟ وہ فرمانے لگے : ہاں ! وہ محلات جو شداد نے اپنے لیے جنت کے طور پر 300 سال میں بنوائے تھے اور پھر انہیں پوشیدہ کر دیا گیا تھا۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کیا انہیں کوئی شخص دیکھ سکتا ہے؟ حضرت کعب الاحبار رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: ہاں بالکل ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا کہ میری امت کا ایک شخص اپنے اونٹ کو ڈھونڈتے ہوئے اس کو دیکھے گا، جس کا قد چھوٹا ، رنگ سرخ اور گردن اور ابر و پر تل ہوگا ۔
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے یہ تمام نشانیاں حضرت عبد اللہ بن قلا بہ رضی اللہ عنہ میں دیکھ کر فرمایا : خدا کی قسم ! یہی وہ شخص ہے جس کی پیشین گوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی تھی
(بحوالہ کتاب: واقعات کا خزانہ صفحہ نمبر 90 ناشر: مکتبہ ارسلان کراچی)
