کشف کے ذریعے اللہ کا قرب حاصل ہوتا ہے — امام ابن تیمیہ کا فتویٰ

حضرت علامہ لاہوتی پراسراری صاحب دامت برکاتہم العالیہ کے ایسے واقعات، جن میں جنات کو دیکھنے، ان سے ملاقات کرنے، کشف القبور اور کشف الارواح کا ذکر ہو، یا ایسے واقعات جن میں تھوڑے وقت میں زیادہ سفر کرنا، ایک ہی وقت میں کئی جگہ نظر آنا وغیرہ کا بیان ہو، کچھ لوگوں کی عقل میں نہیں سماتے اور وہ فوراً فتویٰ لگا دیتے ہیں کہ ایسے تمام علوم غیر شرعی ہوتے ہیں۔

حالانکہ امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ کا فرمان ہے کہ کشف اور تصرفات کی طرح بعض خرقِ عادت امور بھی ہوتے ہیں۔ کشف کا تعلق علم سے ہے اور تصرفات کا تعلق قدرت سے ہے۔ تو اگر کوئی انسان اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی مرضیات حاصل کرنے کے لیے کشف اور تصرفات سے مدد لے، تو اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کا درجہ مزید بلند ہو جاتا ہے، اور اسے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کا قرب حاصل ہو جاتا ہے۔

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2025