(مفتی محمد فرقان محمود، خصص جامعہ بنوریہ کراچی)
شیخ الوظائف اپنے اکثر دروس میں ناخن کاٹنے پر خوشحالی اور نہ کاٹنے پر بدحالی کا تذکرہ فرماتے ہیں اسی طرح کچھ عرصہ قبل عبقری کے فیس بک پیج پر ایک پوسٹ ناخن کاٹنے پر بیماریاں بھگانے کی ڈالی گئی جسے ایک کروڑ سے زیادہ لوگوں نے دیکھا پسند کیا اور فیض حاصل کیا تو میرے دل سے عبقری کیلئے بے ساختہ دعائیں نکلنا شروع ہو گئیں کتنی چھوٹی چھوٹی چیزوں کے ذریعے تسبیح خانہ اور عبقری ہمیں قرآن وسنت اور تعلیمات اکابر سے جوڑ رہا ہے آپ دوستوں کیلئے ناخنوں کے ذریعے خوشحالی اور بدحالی کے کی باتیں عرض کرتا ہوں جس سے آپ عبقری کے بارے میں یہ کہنے پر مجبور ہو جائیں گے اس پرفتن دور میں عبقری ہمارا بہت بڑا حسن ہے۔ (1) مسرج اشعریہ نے بیان کیا کہ ہمارے والد مسرج ” جو اصحاب نبی پاک سمایا کہ تم میں تھے انہوں نے ناخن کاٹا اور اس کے تراشہ کو جمع کر کے دفن کر دیا اور پھر کہا کہ میں نے اسی طرح ( آپ مالی می بینم کو ناخن کے تراشے کو دفن ) کرتے ہوئے دیکھا۔
(شعب الایمان ج 5 میں 232 بحوالہ شمائل کبری ج 2 ص 405)
(2) حافظ ابن حجر عسقلانی نے لکھا ہے کہ ناخن کاٹنے کے بعد اسے دفن کر دینا چاہیے۔
(فتح الباری ج 10 ص 346)
(3) حافظ ابن حجر عسقلانی نے علامہ زبیدی ، شارح احیاء نے اتحاف السادۃ میں اور علامہ شامی نے ردر المختار میں ناخن کاٹنے کی ایک خاص ترتیب پر آشوب چشم کا علاج لکھا ہے کہ یہ عمل مجرب ہے اس کی وجہ سے یہ بیماری دور ہو جائے گی۔
(فتح، اتحاف ج 2 ص 412 بحوالہ شمائل کبری ج 2 ص 405)
(4) شیخ محمد صالح المنجد حفظہ اللہ کی نگرانی میں میں ایک فتویٰ شائع کیا گیا جس میں لکھا ہے کہ اگر ناخنوں کو دفن کر دیتے ہیں تو یہ اچھاعمل ہے-
(5) امام بیہقی رحمہ اللہ شعب الایمان میں فرماتے ہیں کہ بالوں اور ناخنوں کو دفن کرنے کے بارے میں احادیث مختلف اسناد کے ساتھ موجود ہیں۔
( بحوالہ نصب الرایۃ فی تخریج احادیث الہدایۃ ج 1ص189)
(6) امام خلال رحمہ اللہ نے اپنی کتاب: "الترجل : صفحہ: 19 میں نقل کیا ہے کہ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بالوں اور ناخنوں کو دفن کیا جائے۔
(7) شیخ محمد بن صالح عثیمین رحمہ اللہ سے بالوں اور ناخنوں کو تراشنے کے بعد انہیں دفن کرنے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نےجواب دیا: اہل علم نے بال اور ناخن دفن کرنے کو اچھا اور بہتر عمل قرار دیا ہے، اس بارے میں صحابہ کرام سے بھی کچھ آثار ملتے ہیں۔
(مجموع فتاوی شیخ ابن عثیمین” (11 / جواب نمبر : 60)
(8) ناخنوں کو نجس ( ناپاک) جگہ ڈال دینا کراہت و گناہ کا ذریعہ ہے اور اس کو دفن کر دینا بہتر ہے۔
( فتاوی ہندیہ ج 5 ص 358 بحوالہ فتاوی دار العلوم فتوی نمبر 35296)
(9) انسانی ناخن اور بال دفن کر دینے چاہیں یا ایسی جگہ مٹی میں ڈال دیے جائیں جہاں گندگی اور نا پا کی نہ ہو-
(جامعہ بنوری ٹاؤن ، فتوی نمبر 143605200009)
(10) چار چیزوں کے بارے میں حکم یہ ہے کہ وہ دفن کر دی جائیں۔ بال ، ناخن حیض کا لتا، خون ۔اس لئے ناخن کاٹنے کے بعد اسے دفن کر دینا چاہئے۔ پاخانہ یا نسل خانہ میں انہیں ڈالنا مکروہ ہے کہ اس سے بیماری پیدا ہوتی ہے۔
(ماخوذ از اسلامی اخلاق و آداب، مصنفہ صدر الشریعہ علامہ امجد علی قادری ، ص: ۲۳۳ تا ۲۳۸)
(11) فتاوی عالمگیری میں لکھا ہے کہ دانت سے ناخن کاٹنا مکر وہ اور اس سے کوڑھ کا مرض ہو جانے کا اندیشہ ہے۔
(فتاوی عالمگیری جلد 5 ، صفه 358)
(12) کٹے ہوئے ناخن اور بال دفن کرنا چاہیے دفن نہ کرے تو کسی محفوظ جگہ پر ڈالدے یہ بھی جائز ہے مگر نجس گندی جگہ پر نہ ڈالے اس سے بیمارہو جانے کا اندیشہ ہے۔
( بہشتی زیور : حصہ 11 ص 97)
(13) جمعے کے دن ناخن تراشنے والا دس ( 10 ) دن تک اس کی برکتیں پاتا ہے۔
(مسنداحمد ، ج 9، ص 125 ، حدیث : 23539 )
(14) حدیث پاک میں ہے: جو جمعہ کے دن ناخن ترشوائے ، اللہ تعالیٰ اس کو دوسرے جمعہ تک بلاؤں سے محفوظ رکھے گا اور 3 دن زائد یعنی 10 دن تک۔
(مرقاۃ المفاتیح ، ج 8، ص212۔ کنز العمال ج 6 ص 372)
(15) دانت سے ناخن کاٹنا مکروہ ہے تنگی رزق اور غربت کا باعث ہے۔
(اتحاف ج 2 ص 412)
(16) علامہ ابن عابدین شامی فرماتے ہیں: دانت سے ناخن نہ کاٹے کہ اس سے برص کی بیماری پیدا ہو جاتی ہے-
(فتاوی شامی ج 5 ص 287)
(17) مولانا اختر حسین صاحب لکھتے کہ ناخن کاٹنے کے بعد تراشے ہوئے کو دفن کرنا سنت ہے-
( سنت حبیب سلیم ص 189)
