پانچ لاکھ سے زائد لوگوں کے کلمہ پڑھنے کا ذریعہ بننے والے عالمی مبلغ مولانا محمد کلیم صدیقی صاحب مدظلہ فرماتے ہیں کہ بنارس یونیورسٹی کے ایک پروفیسر نے قرآن پاک کا سنسکرت زبان میں ترجمہ کرتے ہوئے قرآن کے بہت سے عجائبات کا تذکرہ کیا ہے۔ مثلاً انہوں نے ایک آیت پڑھی
(وَأَنبَتنَا عَلَيهِ شَجَرَةٌ من يقطين)
کہ جب حضرت یونس علیہ السلام کو مچھلی کے پیٹ سے نکال کر کنارے پر ڈالا گیا تو ہم نے ان کے پاس کدو کی بیل اگادی۔ وہ کہنے لگے کہ میں اس ریسرچ میں پڑ گیا کہ صرف کدو ہی کی بیل کیوں لگائی گئی؟ بالآخر ایک جگہ یہ جواب ملا کہ کدو کی بیل میں خاصیت ہے کہ اس کے ارد گرد مکھیاں، مچھر اور پتنگے نہیں آسکتے۔ چونکہ حضرت یونس علیہ السلام کا جسم پانی میں رہنے کی وجہ سے نرم ہو گیا تھا، اس لیے انہیں مکھیوں سے بچانے کا بھی انتظام فرمایا گیا۔ وہ پروفیسر صاحب مزید کہتے ہیں کہ یہ پڑھ کر میرے دل میں بات آئی کہ یہ آیت تو مکھیوں اور مچھروں کو بھگانے کیلئے بھی استعمال ہو سکتی ہے۔ چنانچہ ایک دن میں نے اپنے دوستوں کی دعوت کی تو کھانے پر بہت زیادہ مکھیاں آگئیں۔ میں نے تجوید کے ساتھ اس آیت کا وظیفہ پڑھنا شروع کر دیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے ساری مکھیاں غائب ہو گئیں اور میرے سب دوستوں نے بھی دیکھ لیا کہ اس آیت کا وظیفہ پڑھنے سے ہی یہ حفاظت مل رہی ہے
(بحوالہ : یہ بیان انٹرنیٹ کے اس لنک سے لیا گیا ہے)
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1969354523152189&id=100002329821185
محترم قارئین ! عبقری کے پیغام "اعمال سے بچنے کا یقین” کا یہی مفہوم ہے کہ ہم پر جب بھی کسی قسم کی پریشانی یا آزمائش آئے تو ہم فوراً اعمال کی طرف متوجہ ہوجائیں اور یہ دیکھیں کہ اب ہم اپنے رب کو کس آیت یا کس دعا کے ذریعے راضی کریں گے تو ہمارا کام بن جائے گا۔ یہی پیغام اور یہی ریت روایت صدیوں سے ہمارے اکابر واسلاف کے ذریعے ہم تک چلی آرہی ہے۔
