بعض لوگوں کی طبیعت میں ضرورت سے زیادہ سختی ہوتی ہے وہ بہت سی جائز چیزوں کو بھی ناجائز اور حلال چیزوں کو بھی حرام کہہ جاتے ہیں اور ماڈرن معاشرے کے اس دور میں بھی یہ وبا بڑھتی جارہی جسے اعتراض بے جا کا نام دینا بالکل درست لگتا ہے یہی سب کچھ شب برأ ت کے روزے کے معاملے میں بھی ہوا کہ بعض دوستوں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ تسبیح خانہ شب برات کے دن جو روزہ رکھنے کی ترغیب دیتا ہے یہ تو روایت ہی ثابت نہیں ۔۔۔! ایسے کم علموں کی خدمت میں حضرت مولانا ابوجندل قاسمی صاحب (مدرسہ قاسم العلوم تیوڑہ، مظفرنگر، یوپی)کاعلمی جواب پیش کرتے ہیں اللہ کریم ہمیں دین کی صحیح فہم عطا فرمائے۔
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: جب نصف شعبان کی رات آجائے تو تم اس رات میں قیام کیا کرو اور اس کے دن (پندرہویں تاریخ) کا روزہ رکھا کرو؛ اس لیے کہ اس رات میں اللہ تعالیٰ سورج غروب ہونے سے طلوعِ فجر تک قریب کے آسمان پر نزول فرماتے ہیں اور ارشاد فرماتے ہیں کہ کیا ہے کوئی مجھ سے مغفرت طلب کرنے والا جس کی میں مغفرت کروں؟، کیا ہے کوئی مجھ سے رزق کا طالب کہ میں اس کو رزق عطا کروں؟ کیا ہے کوئی کسی مصیبت یا بیماری میں مبتلا کہ میں اس کو عافیت عطا کروں؟ کیا ہے کوئی ایسا؟ کیا ہے کوئی ایسا؟ اللہ تعالیٰ برابر یہ آواز دیتے رہتے ہیں؛ یہاں تک کہ سورج طلوع ہوجاتا ہے۔
(ابن ماجہ ص۹۹، شعب الایمان ۳/۳۷۸، حدیث ۳۸۲۲)
حضرت علی رضی اللہ عنہ کی مندرجہ بالا حدیث شریف پر عمل کرتے ہوئے امت میں پندرہویں تاریخ کے روزہ رکھنے کا معمول رہا ہے۔ اگرچہ وہ حدیث باتفاقِ محدثین انتہائی ضعیف ہے؛ کیونکہ اس کے ایک راوی ”ابوبکر بن عبد اللہ بن محمد بن ابی سبرہ“ پر حدیثیں گھڑنے کا الزام ہے۔ تاہم اس حدیث شریف کو موضوع نہیں کہا جاسکتا؛ کیوں کہ ابوبکر بن عبد اللہ پر حدیثیں گھڑنے کے الزام سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ یہ حدیث بھی اس کی بنائی ہوئی ہے، جس کی تین وجوہات ہیں: (۱) پہلی وجہ یہ ہے کہ اصولِ حدیث وغیرہ کی مختلف کتابوں میں صراحت ہے کہ کسی حدیث کی سند میں کوئی راوی متّہم بالکذب یا متّہم بالوضع پایا جائے تو محض اتنے سے وہ حدیث موضوع نہیں ہوجاتی، جب تک کہ کوئی دوسری دلیل اس کے موضوع ہونے پر دلالت نہ کرے؛ چناں چہ امام سخاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”ہٰذا مَعَ اَنّ مُجَرّدَ تَفَرُّدِ الْکَذّابِ بَلِ الْوَضّاعِ ولو کان بعدَ الاسْتِقْصَاءِ والتَّفْتِیْشِ منْ حافِظٍ مُتَبَحِّرٍ تَامِّ الاسْتِقْرَاءِ غَیْرُ مُسْتَلْزِمٍ لِذٰلِکَ بل لابُدّ مَعَہ من انضِمَامِ شَیْءٍ مِمّا سَیَأتِیْ“ ترجمہ: محض کسی جھوٹے بلکہ وضَّاعِ حدیث کا کسی حدیث میں متفرد ہونا اس کو (یعنی حدیث کے موضوع ہونے کو) مستلزم نہیں، اگرچہ اس کا ثبوت کسی متبحر اور دیدہ ور حافظِ حدیث کی تحقیق سے ہوا ہو؛ بلکہ اس کے ساتھ کسی اور دلیل کا ملنا بھی ضروری ہے، جس کا ذکر آئندہ آرہا ہے۔
(فتح المغیث ۲/۶۸، باب تحمل الاجازة)
مثلاً: حدیث: ”لا تقولوا سورة البقرة الخ“ کو امام احمد رحمہ اللہ نے منکر اور اس کے راوی ”عُبیس“ کو منکر الحدیث کہا ہے، جس کی وجہ سے علامہ ابن الجوزی رحمہ اللہ نے اس حدیث شریف کو موضوعات میں داخل کردیا، تو علامہ جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ نے حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کا اس پر سخت اعتراض نقل کیا ہے، فرماتے ہیں: ”قال ابنُ حجر فی اَمالِیْہ اَفْرَطَ ابنُ الجوزی فی اِیْرادِ ہٰذا الحدیثِ فی الْمَوْضُوْعاتِ ولَمْ یَذْکُرْ مُسْتَنَدَہ اِلَّا قولَ احمد وتضْعِیْفَ عُبَیْسَ وہٰذا لاَ یَقْتَضِیْ وَضْعَ الْحَدِیْثِ“ یعنی ابن جوزی رحمہ اللہ نے اس حدیث شریف کو موضوعات میں شمار کرکے تشدد سے کام لیاہے اور دلیل میں حضرت امام احمد رحمہ اللہ کے قول اور عبیس کی تضعیف کے علاوہ کچھ اور ذکر نہیں کیا؛ لیکن یہ بات اس حدیث کے موضوع ہونے کا تقاضہ نہیں کرتی۔
(اللآلی المصنوعہ ۱/۲۱۸)
لہٰذا یہ بات واضح ہوگئی کہ پندرہویں شعبان کے روزے کی فضیلت والی حدیث کو محض اس وجہ سے موضوع کہنا کہ اس کے ایک راوی ”ابوبکر بن عبد اللہ“ پر وضعِ حدیث کا الزام ہے، بالکل غلط ہے، خود مشہور اہل حدیث عالم مولانا عبدالرحمن مبارک پوری رحمہ اللہ اس حدیث کو شب براء ت کی فضیلت کے ثبوت میں پیش کرتے ہیں اور اس شخص پر حجت قائم کرتے ہیں جو یہ کہتا ہے کہ شعبان کی پندرہویں شب کی فضیلت ثابت نہیں، جیساکہ ان کی عبارت اوپر گزرگئی، اگر یہ حدیث موضوع ہوتی تو ہرگز وہ یہ بات نہ فرماتے۔
(۲) دوسری وجہ یہ ہے کہ یہ حدیث شریف سنن ابن ماجہ کی ہے اور بعض حضرات نے سنن ابن ماجہ کی موضوع احادیث کی نشان دہی کی ہے اور اس سلسلے میں ایک رسالہ ”مَا تَمَسُّ اِلَیْہِ الْحَاجة“ لکھا ہے، جس میں ان تمام موضوع احادیث کو ذکر کردیاگیا ہے؛ لیکن ان میں اس حدیث شریف کا ذکر نہیں ملتا۔
(۳) درج بالا سطور میں تفصیل کے ساتھ یہ بات بیان کی گئی کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی یہ حدیث موضوع نہیں، اس کو موضوع قرار دینا محدثین کے اصول کے خلاف نیز کم علمی کی دلیل ہے، ہاں یہ حدیث شریف ضعیف ضرور ہے؛ مگر اس کا ضعف اس پر عمل کرنے سے مانع نہیں؛ کیوں کہ محدثین نے اس کی بھی صراحت کی ہے کہ ”باب الفضائل“ میں ضعیف حدیث قابل قبول ہوتی ہے؛ چناں چہ امام احمد، عبدالرحمن بن مہدی اور عبداللہ بن المبارک رحمہم اللہ تعالیٰ کا قول منقول ہے: ”اذا رَوَیْنَا فی الحلالِ والحرامِ شَدَّدْنَا واِذَا رَوَیْنَا فی الفضائِلِ ونَحْوِہَا تَسَاہَلْنَا“ جب ہم حلال وحرام کے باب میں حدیث نقل کرتے ہیں تو مکمل احتیاط اور سختی سے کام لیتے ہیں اور جب فضائل وغیرہ کے باب میں روایت کرتے ہیں تو نرمی برتتے ہیں۔
(اللآلی المصنوعہ ۱/۹۹)
اسی طرح علامہ سیوطی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”یَجُوْزُ عِنْدَ اَہْلِ الْحَدِیْثِ وغَیْرِہِمْ التّسَاہُلُ فی الاَسَانِیْدِ الضَّعِیْفَةِ وَرِوَایَةِ مَا سِوَی الْمَوْضُوعِ من الضّعِیْفِ والعَمَلِ بِہ من غیرِ بَیَانِ ضُعْفِہ فی غیرِ صِفَاتِ اللّٰہ تعالٰی والاحْکَام کالحلالِ والحرامِ“ ترجمہ: محدثین وغیرہم کے نزدیک ضعیف سندوں میں تساہل برتنا اور موضوع کو چھوڑ کر ضعیف حدیثوں کو ان کا ضعف بیان کیے بغیر روایت کرنا اور ان پر عمل کرنا جائز ہے؛ مگر اللہ تعالیٰ کی صفات اور احکام مثلاً حلال وحرام کی حدیثوں میں ایسا کرنا جائز نہیں۔
(تدریب الراوی ۱/۲۹۸، النوع الثانی والعشرون المقلوب)
اس تفصیل سے یہ بات معلوم ہوئی کہ پندرہویں شعبان کے روزے کو نہ تو سنت قرار دینا مناسب ہے اور نہ بدعت؛ البتہ مستحب کہا جائے گا؛ کیوں کہ ایک ضعیف حدیث میں اس کی فضیلت مذکور ہے اور فضائل میں ضعیف حدیث قابل قبول ہوتی ہے۔
لہٰذا بہتر تو یہ ہے کہ ماہِ شعبان کے اکثر حصے کے روزے رکھے جائیں، یہ نہ ہوسکے تو ماہ شعبان کے نصف اوّل کے روزے رکھے جائیں، یہ بھی نہ ہوسکے تو ایام بیض (۱۳، ۱۴،۱۵ شعبان) کے روزے رکھے جائیں اور اتنا بھی نہ ہوسکے تو کم ازکم پندرہ شعبان کا روزہ تو رکھ ہی لے، یہ روزہ بھی ان شاء اللہ موجب اجر ہوگا۔
(ماہنامہ دارالعلوم ، شمارہ6، جلد: 99 ، شعبان 1436 ہجری مطابق جون 2015ء)
جی ہاں ! تسبیح خانہ لاہور کی ایک ایک بات کے پیچھے قرآن و سنت کی مہر اور اکابرین ؒ کے دستخط موجو د ہیں ۔
