کیا حضور ﷺ سے بالوں پر عمل کرنا ثابت ہے؟

دینِ اسلام خیرخواہی کا دین ہے، جو اس میں خیر تلاش کرے گا اسے چھوٹی چھوٹی چیزوں میں بڑی خیر ملے گی۔ محترم شیخ الوظائف صاحب نے ساری زندگی اس خیر کو تلاش کر کے مخلوقِ خدا تک پہنچایا، انہوں نے دورانِ روحانی محفل جادو، جنات اور بلاؤں سے حفاظت کے لیے بالوں پر عمل کروایا، کچھ کم علم اور کم ظرف اس پر اعتراض کرتے ہیں کہ کیا حضور ﷺ کی زندگی سے ایسا کوئی عمل ثابت ہے؟ مستند احادیث میں تفصیلی واقعہ ہے کہ ایک یہودی نے حضور ﷺ پر جادو کروایا اور فرشتوں کے ذریعے حضور ﷺ کو اس کی اطلاع کی گئی اور اس کنویں کی نشاندہی کی گئی جہاں جادو دفن کیا گیا تھا، جب کنویں سے جادو کی چیزیں نکالی گئیں ان میں حضور ﷺ کے موئے (بال) مبارک تھے اور حضور ﷺ نے ان پر سورہ فلق کی تلاوت فرمائی جس کی برکت سے جادو ختم ہو گیا۔

(تفسیر ابن کثیر، جلد 5، صفحہ 661، 662، شرح سورہ فلق، تالیف: امام المفسرین حافظ عماد الدین ابوالفداء اسمعیل بن عمر بن کثیر الدمشقی، ترجمہ: مولانا محمد جوناگڑھی، مکتبہ: اسلامیہ، صحیح مسلم: حدیث نمبر: 5703، صحیح بخاری، حدیث نمبر: 5763)

جب کسی کا نکاح ہو تو بیوی کی پیشانی کے بال پکڑ کر دعا پڑھیں (سنن ابی داؤد حدیث نمبر: 2160)

حضرت علیؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت حسنؓ کی پیدائش کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اے فاطمہ! حسنؓ کا سر منڈواؤ اور اس کے بالوں کے وزن کے برابر چاندی صدقہ کرو” (سنن ترمذی، حدیث نمبر: 1519)

اگر بالوں پر عمل کرنا غلط تھا تو حضور ﷺ نے جادو کے خاتمے، منکوحہ کے بال پکڑ کر دعا پڑھنے اور امام حسنؓ کے بالوں پر عمل کرنے کا کیوں فرمایا؟

سرکش کے بال پکڑ کر اس پر مخصوص کلمات پڑھیں، وہ فرمانبردار ہو گا۔ (گنجینہ اسرار، ص 88، مولانا انور شاہ کشمیری)، پانی جاری ہونے کیلئے بالوں میں تعویذ باندھیں، ظالم کو مغلوب کرنے کے لئے بالوں پر عمل، برائے دردِ سر، دفعِ دشمن کیلئے سر کے بالوں میں عمل (آسان عملیات و تعویذات، جلد دوم، ص 87، 134، 140، 147، 180 اعجاز احمد خاں سنگھانوی، کتب خانہ انور شاہ کراچی)

باب 174: ام الصبیان کے علاج اور اس گفتگو کے بیان میں جو حضرت سلیمانؑ اور اس موذیہ کے مابین ہوا اس بلا نے حضرت سلیمانؑ کو بتایا کہ یہ کس طرح انسان کے جسم اور بالوں میں سرایت کرتی ہے اور اس کا علاج طلسماتی تعویذ ہے۔ (مجرباتِ امام سیوطیؒ، صفحہ: 184، مصنف: امام جلال الدین عبدالرحمن سیوطیؒ، مکتبہ: کتب خانہ شانِ اسلام، اردو بازار لاہور)

شیخ محمد محدث تھانویؒ کا عمل ہے کہ خاص ساعتوں میں نفل پڑھ کر خاص وظیفہ پڑھیں اور سر کے بال کھول کر عمل کریں۔ (ص 100، اعجاز احمد خاں سنگھانوی، کتب خانہ انور شاہ کراچی)

تسمیہ لکھ کر سر کے بالوں سے باندھیں، درد میں تسکین ملے گی۔ (شمس المعارف، صفحہ 317، مصنف: شیخ ابو العباس احمد بن علی بونیؒ، مکتبہ: شبیر برادرز، اردو بازار لاہور)

تعویذ لکھ کر سر کے بالوں سے باندھیں۔ (شمس المعارف، صفحہ 563، مصنف: شیخ ابو العباس احمد بن علی بونیؒ، مکتبہ: شبیر برادرز، اردو بازار لاہور)

سر کے بالوں میں یہ تعویذ باندھیں، رزق میں برکت اور لوگ محبت کرنے لگیں۔ (شمس المعارف، صفحہ 569، مصنف: شیخ ابو العباس احمد بن علی بونیؒ، مکتبہ: شبیر برادرز، اردو بازار لاہور)

(شمس المعارف، صفحہ 603، مصنف: شیخ ابو العباس احمد بن علی بونیؒ، مکتبہ: شبیر برادرز، اردو بازار لاہور)

جنات کا سایہ دور کرنے کے لئے خاص اسماء الحسنیٰ کے ساتھ دعا پڑھ کر بالوں کو گرہ دیں، جنات کا اثر ختم ہو گا۔ (نافع الخلائق، صفحہ 520، مصنف: مولانا محمد زوار خان، اسلامی کتب خانہ، اردو بازار لاہور)

جس لڑکی کی شادی نہ ہوتی ہو وہ کنگھی کے ساتھ تعویذ باندھ کر بالوں میں پھیرے۔ (نافع الخلائق، صفحہ 537، مصنف: مولانا محمد زوار خان، اسلامی کتب خانہ، اردو بازار لاہور)

قارئین! اکابر کی کتابوں میں بے بہا ایسے عمل ہیں جن میں بالوں پر عمل کیا جاتا ہے، اس کا بیماری اور جادو کے توڑ میں بہت گہرا عمل دخل ہے۔ اس لئے انسان کو جس شعبے کا علم نہ ہو اس پر اعتراض نہیں کرنا چاہیے، عملیات ایک شعبہ ہے جیسے درس و تدریس اور دعوت و تبلیغ ایک شعبہ ہے اسی طرح روحانی عملیات ایک مکمل شعبہ ہے، اعتراض کرنے اور سننے والا بڑی خیر سے محروم ہو جاتا ہے اور فتنوں کا پھیلانے والا بن جاتا ہے اس لئے اعتراض سے بچیں۔

پوسٹ کو شیئر کریں

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026