شیخ الوظائف دامت برکاتہم اسی چیز کا پرچار کرتے ہیں جو کہ قرآن وسنت اور تعلیماتِ اکابر میں موجود ہیں: آئیے شیخ الوظائف دامت برکاتہم کے مزارات پر جانے کی حقیقت اہلِ علم سے جانتے ہیں۔ حضرت حکیم العصر مولانا عبدالمجید لدھیانویؒ (شیخ الحدیث باب العلوم کہروڑ پکا، ساتویں امیر تحفظِ ختمِ نبوت) جب انڈیا کے سفر (جو 1427ھ میں ہوا) سے واپس تشریف لائے تو فرمانے لگے جب ہم بزرگوں (خواجہ قطب الدین بختیار کاکیؒ وغیرہ) کے مزاروں پر فاتحہ پڑھ کر واپس آکر بیٹھے تو سارے وفد کے علماء متفکر تھے کہ یہ ہم نے کونسی غلطی کر لی وہاں تو شرک ہو رہا تھا قبروں کی پوجا ہو رہی تھی ہم وہاں کیوں گئے تو مجھے وہاں ان کو ایک گھنٹہ سمجھانا پڑا جس کا خلاصہ یہ ہے میں نے کہا کہ کیا حضور ﷺ کعبہ کا طواف اور مسجدِ حرام میں کعبہ کے پاس عبادت نہیں کرتے تھے؟ حالانکہ وہاں 360 بت تھے وہاں صبح شام شرک ہوتا تھا۔
اس کے باوجود حضور ﷺ نے اپنی عبادت نہیں چھوڑی مگر بتوں کو چھیڑا تک نہیں۔ پھر عمرۃ القضاء کرنے گئے تو بت موجود تھے انہیں کچھ نہیں کہا صرف عمرہ کر کے واپس آگئے۔ لیکن جب فتح مکہ کا موقع تھا تو اس وقت تک بیت اللہ میں داخل ہونا گوارا نہ کیا جب تک تمام بتوں کو ختم نہ کر دیا پہلے بتوں سے بیت اللہ و مسجدِ حرام کو پاک کیا پھر وہاں عبادت کی، طواف کیا۔ کیوں؟ وجہ فرق یہ ہے پہلے حضور ﷺ کو قدرت و طاقت حاصل نہ تھی کہ بتوں کو گراتے اس وقت اپنا کام کرتے رہے مگر ان کو چھیڑا تک نہیں۔ جب فتح مکہ والے سال فاتحانہ انداز میں گئے تو سب سے پہلے کعبہ کو بتوں سے پاک کیا اسی طرح ہمیں ابھی قدرت نہیں ہم مزاروں پر جائیں گے شرک کی وجہ سے جانا نہیں چھوڑیں گے اپنا کام کر کے واپس آجائیں گے ان کو نہیں چھیڑیں گے ہاں جب قدرت ہو گی تو سب سے پہلے ان مزاروں کو شرک سے پاک کریں گے پھر فاتحہ پڑھیں گے۔
(ماہنامہ ’’لولاک‘‘ ملتان، ص 58، بیاض: شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالمجید لدھیانویؒ، ناشر: عالمی مجلس تحفظِ ختمِ نبوت ملتان)
(عبقری کا ہر عمل قرآن سنت اور تعلیماتِ اکابر کا علمبردار ہے)
