کیا وظائف اور تعویذ سے علاج کرنا حرام ہے؟

قسط نمبر 98

کیا وظائف اور تعویذ سے علاج کرنا حرام ہے؟

اکابر پر اعتماد
موجودہ دور میں کچھ افراد نے دین کے نہایت حساس شعبے "فتویٰ” دینے کو ایک معمولی مشغلہ بنا لیا ہے، اور آئے دن قرآن و سنت اور اجماعِ امت کے خلاف نت نئے فتوے جاری کرتے رہتے ہیں۔

ماہنامہ عبقری میں شائع ہونے والے شرک و بدعت سے پاک مجرب وظائف کو بھی اعتراض کا نشانہ بنایا جاتا ہے کہ یہ "خود ساختہ” ہیں۔ حالانکہ ایسے افراد کو چاہیے کہ رٹی رٹائی باتوں کو دہرانے کے بجائے کچھ دینی علم حاصل کریں، تاکہ انہیں معلوم ہو کہ دم، وظائف پڑھنے اور تعویذات کا شرعی حکم کیا ہے۔
زبدۃ المحدّثین علامہ سید محمد صدیق حسن خان رحمۃ اللہ علیہ (مکتبہ اہل حدیث) کا فتویٰ:
حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"لَا بَأْسَ بِالرُّقَى مَا لَمْ يَكُنْ فِيهِ شِرْكٌ”
"ایسا دم کرنے میں کوئی حرج نہیں جس میں شرک نہ ہو۔”
— (صحیح مسلم)

علامہ صدیق حسن خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

جو دم (وظائف) زمانۂ جاہلیت کے ہوں، یا کفار و مشرکین کے وضع کردہ ہوں، وہ ممنوع ہیں۔
اس کے علاوہ جو دم اسلام کے ہوں، یا قرآن و حدیث سے ثابت ہوں، یا علمائے اہلِ توحید سے ماثور ہوں، وہ بلا شک و شبہ جائز ہیں۔
اور سب سے بہتر دم سورۃ الفاتحہ، سورہ اخلاص، اور معوّذتین ہیں۔

— (بحوالہ: الداء والدواء، صفحہ 17، ناشر: مشتاق بُک کارنر، اردو بازار، لاہور)

مفتی محمد ایوب نعیمی رضوی مدّظلّہ العالی (مکتبہ بریلوی) کا فتویٰ:
یہ ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ جس طرح انسانی جسم بیماری کا شکار ہوتا ہے، اسی طرح اس کی روحانی لطافت بھی بعض اوقات غیر محسوس اور باطل قوتوں کی زد میں آ کر مختلف روحانی بیماریوں میں مبتلا ہو جاتی ہے۔
بعض اوقات انسان بڑے وسائل خرچ کر کے بھی ظاہری علاج سے فائدہ نہیں اٹھا پاتا۔

اسی لیے روحانی شفاء کے لیے نقوش (تعویذات) اور عملیات کا سلسلہ زمانۂ قدیم سے چلا آ رہا ہے۔

— (بحوالہ: شمعِ شبستانِ رضا، صفحہ 6، ناشر: قادری رضوی کتب خانہ، گنج بخش روڈ، لاہور)

. مفتی محمد عبدالغنی مدّظلّہ (فاضل جامعہ بنوری ٹاؤن) کا فتویٰ:
سنن ابی داؤد میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:
"اللہ تعالیٰ نے ہر مرض کا علاج رکھا ہے، اس لیے علاج کرو، لیکن حرام چیز سے نہیں۔”

مفتی صاحب مزید فرماتے ہیں:

اکابر و مشائخ کا ہمیشہ معمول رہا ہے کہ وہ قرآنی آیات اور دعائیں لکھ کر ان کا دھویا ہوا پانی مریضوں کو پلاتے ہیں، اور اس سے اللہ تعالیٰ شفاء عطا فرماتا ہے۔

امام ملا علی قاری رحمہ اللہ کا بھی یہی قول ہے کہ:
قرآنی آیات، اسماء الحسنیٰ اور ماثورہ دعاؤں سے علاج نہ صرف جائز ہے، بلکہ افضل ہے، چاہے یہ تعویذ کی شکل میں ہو، یا دم اور منتر کی صورت میں۔

— (بحوالہ: مستند علاجِ نبوی صلى الله عليه وسلم، صفحہ 13، مؤلف: الشیخ احمد بن محمود الدِّیب، ترجمہ: مفتی محمد عبدالغنی،فاضل بنوری ٹاؤن،ناشر: درخواستی کتب خانہ، علامہ بنوری ٹاؤن، کراچی)

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2025