قارئین ! بعض اوقات عبقری میگزین میں ایسے وظائف کا ذکر ہوتا ہے، جو لوگوں کو خواب کی حالت میں مختلف بزرگ ہستیوں کی طرف سے لا علاج امراض یا پیچیدہ مسائل کے حل کیلئے عطا ہوتے ہیں۔ کچھ لوگ ایسے واقعات پڑھ کر اپنے یقین کی طاقت کھو بیٹھتے ہیں اور اعتراض کرتے ہیں کہ عبقری میں یہ قصے کہانیوں کا سلسلہ بند ہونا چاہئے ، حالانکہ یہی لوگ ذرا ہوش مندی کے ساتھ اپنے اکابر و اسلاف کا تذکرہ پڑھیں تو ایسے بے شمار ماوراء العقل واقعات ان کا استقبال کرتے ہیں۔
جیسا کہ کتاب بزم خردمندان میں ڈیڑھ سو مساجد کے مہتم جناب میاں نعیم الرحمان صاحب کے متعلق لکھا ہے کہ میاں نعیم الرحمن کینسر کے مرض میں مبتلا تھے اور کافی دنوں سے بے ہوش پڑے تھے
جامعہ سلفیہ کا ایک وفد جس میں چوہدری یسین ظفر بھی شامل تھے، میاں صاحب کی عیادت کے لیے گیا۔ میاں صاحب کی حالت دیکھ کر چو ہدری یسین ظفر صاحب نے کہا کہ چل چلاؤ کا وقت محسوس ہو رہا ہے ۔ خدا کی قدرت کہ ڈاکٹر حضرات مایوسی کے عالم میں ان سے مشین ہٹانے لگے تو میاں صاحب نے آنکھیں کھول لیں۔ پھر اس کے بعد یہی احباب میاں صاحب کی عیادت کے لیے کے ان کے گھر گئے ۔ میاں صاحب اس قدر نحیف و نزار ہو چکے تھے کہ بغیر سہارے کے حرکت تک نہ کر سکتے تھے۔ لیکن ان احباب کی آمد پر میاں صاحب بغیر کسی سہارے کے اٹھ کر بیٹھ گئے اور کہنے لگے: جس وقت میں نے آنکھیں کھولی تھیں،
اس وقت میں خواب دیکھ رہا تھا کہ میں جنت میں ہوں اور حضرت آقا علیہ الصلوۃ والسلام، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور میرے ابا جان میاں فضل حق کے ساتھ موجود ہیں ۔ امی عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے ایک وظیفہ کی تلقین فرمائی،
جس میں سبحان اللہ و بحمدہ کے الفاظ تھے۔ علمائے کرام نے مختلف کلمات پڑھے جن میں سبحان اللہ و بحمدہ آتا تھا۔ مگر میاں صاحب ہر ایک کا جواب نفی میں دیتے رہے ۔ آخر کار کسی نے سُبحان اللہ و بحمدِہ عَدَدَ خَلْقِه ورضا نفسه وزنة عرشه ومداد كلماتہ کہا تو میاں صاحب نے روتے
ہوئے بتایا کہ ہاں یہی وہ الفاظ تھے۔ مجھے میرے والد گرامی میاں فضل حق صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے کہا : نعیم چلو گھر جاؤ، بچیاں اکیلی ہیں ۔ اس کے ساتھ ہی میری آنکھیں کھل گئیں ۔ اصل میں میاں نعیم الرحمن صاحب کی کچھ بچیوں کی ابھی شادی نہیں ہوئی تھی ( اس وظیفے کی برکت سے ) جو نہی بچیوں کی شادی کا فریضہ ادا ہوا، اس کے تھوڑے عرصے بعد میاں صاحب رحلت فرما گئے۔
(بحوالہ کتاب: بزم خردمندال صفحہ نمبر: 5 ناشر : ریسرچ انسٹی ٹیوٹ اسلامیہ کالونی ساندہ لاہور )
ایسے کئی واقعات ہمارے اکابر کی زندگی سے ملتے ہیں، جو حلال حرام، جائز نا جائز اور شریعت ہم سے زیادہ سمجھتے تھے۔
