(6) امام خلال رحمۃ اللہ علیہ نے نقل کیا ہے کہ امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ بالوں اور ناخنوں کو دفن کیا جائے۔ ( بحوالہ : الترجل صفحه : 19)
(7) شیخ محمد بن صالح عثیمین رحمۃ اللہ علیہ بالوں اور ناخنوں کو تراشنے کے بعد انہیں دفن کرنے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے جواب دیا : ” اہل علم نے بال اور ناخن دفن کرنے کو اچھا اور بہتر عمل قرار دیا ہے، اس بارے میں صحابہ کرام سے بھی کچھ آثار ملتے ہیں ۔ (بحوالہ : مجموع فتاوی شیخ ابن عثیمین – 11 / جواب نمبر : 60)
(
ناخنوں کو نجس ( نا پاک) جگہ ڈال دینا کراہت و گناہ کا ذریعہ ہے اور اس کو دفن کر دینا بہتر ہے۔ (حوالہ نمبر 1 : فتاویٰ ہندیہ ج 5 ص 358) (حوالہ نمبر 2 : فتاوی دار العلوم فتوی نمبر 35296)
(9) انسانی ناخن اور بال دفن کر دینے چاہیں یا ایسی جگہ مٹی میں ڈال دیئے جائیں جہاں گندگی اور ناپاکی نہ ہو۔ (حوالہ: جامعہ بوری ٹاؤن فقوی )143605200009 نمبر
(10) چار چیزوں کے بارے میں حکم یہ ہے کہ وہ دفن کر دی جائیں۔ بال ، ناشن، حیض کا کپڑا، خون۔ اس لئے ناخن کاٹنے کے بعد اسے دفن کر دینا چاہئے۔ بیت الخلاء یا نسل خانہ میں انہیں ڈالنا مکروہ ہے کہ اس سے بیماری پیدا ہوتی ہے۔ (ما خود: از اسلامی اخلاق و آداب، مصنفه صدر الشریعہ علامہ امجد علی قادری ص : 233-تا-238)
(11) کئے ہوئے ناخن اور بال دفن کرنے چاہیں، دفن نہ کریں تو کسی محفوظ جگہ پر ڈال دیں یہ بھی جائز ہے مگر نجس گندی جگہ پر نہ ڈالے اس سے بیمار ہو جانے کا اندیشہ ہے۔
(بحوالہ : بہشتی زیور: حصہ 11 ص 97)
(12) مولانا اختر حسین رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ ناخن کاٹنے کے بعد تراشے ہوئے کو دفن کرنا سنت ہے۔ (بحوالہ : سنت حبیب ص 189)
