کٹے ناخن دفنانے سے سنگین بیماریاں ختم

1) مسرح اشعریہ رحمۃ اللہ علیہ نے بیان کیا کہ ہمارے والد مسرح رضی اللہ عنہ جو اصحابِ نبی پاک ﷺ میں سے تھے۔ انہوں نے ناخن کاٹا اور اس کے تراشے کو جمع کر کے دفن کر دیا اور پھر کہا کہ میں نے اسی طرح (آپ ﷺ کو ناخن کے تراشے کو دفن) کرتے ہوئے دیکھا۔ (حوالہ نمبر 1: شعب الایمان ج 5، ص 232) (حوالہ نمبر 2: شمائل کبریٰ، اول، حصہ دوم، ص 333)

2) حافظ ابنِ حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ ناخن کاٹنے کے بعد اسے دفن کر دینا چاہیے۔ (بحوالہ: فتح الباری: ج 10، ص 346)

3) علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ نے ردالمختار میں ناخن کاٹنے کی ایک خاص ترتیب پر آشوبِ چشم کا علاج لکھا ہے کہ یہ عمل مجرب ہے اس کی وجہ سے یہ بیماری دُور ہو جائے گی۔ (بحوالہ: فتح اتحاف: ج 2، ص 412)

4) شیخ محمد صالح حفظہ اللہ کی نگرانی میں ایک فتویٰ شائع کیا گیا جس میں لکھا ہے کہ اگر ناخنوں کو دفن کر دیتے ہیں تو یہ اچھا عمل ہے۔

5) امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ شعب الایمان میں فرماتے ہیں کہ بالوں اور ناخنوں کو دفن کرنے کے بارے میں احادیث مختلف اسناد کے ساتھ موجود ہیں۔ (بحوالہ: نصب الرایہ فی تخریج احادیث الہدایہ ج 1، ص 189)

(6) امام خلال رحمۃ اللہ علیہ نے نقل کیا ہے کہ امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ بالوں اور ناخنوں کو دفن کیا جائے۔ (بحوالہ: الترجل صفحہ: 19)

(7) شیخ محمد بن صالح عثیمین رحمۃ اللہ علیہ سے بالوں اور ناخنوں کو تراشنے کے بعد انہیں دفن کرنے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے جواب دیا: ”اہلِ علم نے بال اور ناخن دفن کرنے کو اچھا اور بہتر عمل قرار دیا ہے، اس بارے میں صحابہ کرامؓ سے بھی کچھ آثار ملتے ہیں۔“ (بحوالہ: مجموع فتاویٰ شیخ ابن عثیمین۔ 11 / جواب نمبر: 60)

(8) ناخنوں کو نجس (ناپاک) جگہ ڈال دینا، کراہت و گناہ کا ذریعہ ہے اور اس کو دفن کر دینا بہتر ہے۔ (حوالہ نمبر 1: فتاویٰ ہندیہ ج 5 ص 358) (حوالہ نمبر 2: فتاویٰ دارالعلوم فتویٰ نمبر 35296)

(9) انسانی ناخن اور بال دفن کر دینے چاہیں یا ایسی جگہ مٹی میں ڈال دیے جائیں جہاں گندگی اور ناپاکی نہ ہو۔ (بحوالہ: جامعہ بنوری ٹاؤن، فتویٰ نمبر 143605200009)

(10) چار چیزوں کے بارے میں حکم یہ ہے کہ وہ دفن کر دی جائیں۔ بال، ناخن، حیض کا کپڑا، خون۔ اس لئے ناخن کاٹنے کے بعد اسے دفن کر دینا چاہئے۔ بیت الخلا یا غسل خانہ میں انہیں ڈالنا مکروہ ہے کہ اس سے بیماری پیدا ہوتی ہے۔ (ماخوذ: از اسلامی اخلاق و آداب، مصنفہ صدر الشریعہ علامہ امجد علی قادریؒ ص: 233-تا-238)

(11) کٹے ہوئے ناخن اور بال دفن کرنے چاہیں، دفن نہ کریں تو کسی محفوظ جگہ پر ڈال دیں یہ بھی جائز ہے مگر نجس گندی جگہ پر نہ ڈالے اس سے بیمار ہو جانے کا اندیشہ ہے۔ (بحوالہ: بہشتی زیور: حصہ 11 ص 97)

(12) مولانا اختر حسین رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ ناخن کاٹنے کے بعد تراشے ہوئے کو دفن کرنا سنت ہے۔ (بحوالہ: سنتِ حبیبﷺ ص 189)

حلال، حرام، جائز، ناجائز اور شریعت ہم سے زیادہ ہمارے بڑے جانتے تھے!

پوسٹ کو شیئر کریں

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026