گدھے کے ناخن بطور علاج،ثبوت!

اگر گدھے کے کُھر (ناخن )پر کوئی نجاست نہ لگی ہو تو وہ پاک ہے ،مرگی کے مریض پر کسی طبیب نے بطور علاج کے لٹکانے کا کہا ہے تو لٹکاسکتے ہیں ۔

مرگی کے لیے گدھے کا سُم (کُھر)لے کر اس کی انگوٹھی بنا کر مریض اپنی انگلی میں پہنے۔اللہ تعالیٰ مرگی کو دور کرے گا اور مریض شفا پائے گا۔

اگر گدھے کے کُھرسے انگوٹھی بنا کر مرگی کے مریض کو پہنائی جائے تو اسے مرگی کا دورہ نہیں پڑتا۔

مشہور صوفی عالم عبدالوہاب الشعرانی ؒنے حکیم امام السویدیؒ کی طبی یادداشتوں کا خلاصہ ’’ مختصر تذکرہ امام السویدی فی الطب‘‘ کے نام سے مرتب کیا۔ اس کتاب میں بھی مرگی کے علاج کے تحت گدھے کے کُھر کا مجرب نسخہ درج ہے۔ گدھے کے کُھر کی بنی انگوٹھی سے مرگی کاعلاج:اور اگر وحشی گدھے کے دائیں پاؤں کے کُھر سے انگوٹھی بنا کر مرگی کے مریض کو پہنائی جائے تو وہ پورے سال دورے سے محفوظ رہتا ہے، اور ہر سال نئی انگوٹھی تجدید کی جائے۔

ابن بیطار نے اپنی کتاب” الجامع لمفردات الأدوية والأغذية ” میں مشہور طبیب ابو بکر محمد بن زکریا الرازیؒ کی ’’ کتاب الخواص‘‘ میں سے نقل کیا ہے کہ گدھے کے ناخن سے مرگی کا علاج :۔ مجھے ایک کتاب ملی جو ہرمِس سے منسوب ہے، کہ اگر گدھے کے دائیں پاؤں کے کُھر سے انگوٹھی بنا کر مرگی کے مریض کو پہنائی جائے تو وہ مرگی کے دورے سے محفوظ رہتا ہے۔

مرگی کے علاج کے لیے،تِریاقِ سونا (ترياق الذهب)، زمرد کو لٹکانا اور اسے پینا، اور گدھے کےدائیں کُھر سے بنے ہوئے انگوٹھی کو بائیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی میں پہننا اس شرط کے ساتھ کہ ہر سال اس کی تجدید کی جائے ۔یہ سب مفید ہیں۔

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2025