امام الاولیاء، شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوری رحمۃ اللہ علیہ کے جانشین حضرت مولانا عبید اللہ انور رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ ایک مرتبہ یہ سیاہ کار بحری جہاز کے ذریعے عمرہ کیلئے روانہ ہوا تو کچھ رقم زادِ راہ کے طور پہ پاس تھی۔ عدن سے گزر کر خیال آیا تو اپنی اہلیہ محترمہ سے پوچھا، انہوں نے کہا: رقم تو آپ ہی کے پاس تھی۔ میرے دل کو ذرا سی بھی بے اطمینانی نہ ہوئی۔ میں نے سورۃ الضحیٰ پڑھنا شروع کی اور چلنے لگا۔ آنکھوں کے سامنے ایک پرانی جراب آئی، تو یاد آیا کہ وہ رقم تو اس میں رکھی تھی۔ پھر تصور ہی تصور میں ایک ڈرم نظر آیا۔ میں نچلی منزل پر چلا گیا۔ وہاں ایک کوڑا اٹھانے والا بیٹھا تھا، جو کہنے لگا کہ یہاں کچھ نہیں ہے۔ میں نے اس کی بات پر توجہ نہ کی اور غسل خانے میں داخل ہو گیا۔ اس نے آواز دی کہ ذرا ٹھہریں، مگر میں سورۃ الضحیٰ پڑھتا پڑھتا اندر چلا گیا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ وہی ڈرم کونے میں موجود ہے، جس کے اندر کچرا وغیرہ بھرا ہوا تھا۔ میں نے جھک کر دیکھا تو وہی جراب پانی میں لت پت موجود تھی۔ اسے لے کر باہر آ گیا۔ کوڑے والا جلدی سے اندر گیا اور ڈرم اٹھا کر سارا کچرا سمندر میں پھینک دیا۔ میں نے سوچا کہ اگر دو منٹ بھی لیٹ ہو جاتا تو رقم بھی کوڑے کے ساتھ ہی سمندر میں چلی جانی تھی، مگر سورۃ الضحیٰ کی برکت سے ساری رقم بچ گئی۔ اہلیہ محترمہ کو بتایا تو انہوں نے بھی اللہ پاک کا شکر ادا کیا (ماخوذ از: ہفت روزہ خدام الدین 28 مئی 1971 بحوالہ کتاب: پرتاثیر واقعات صفحہ 46)
(ناشر: مکتبہ یادگارِ شیخؒ، اردو بازار لاہور)
قارئین! درج بالا واقعہ پڑھ کے غور کریں کہ حضرت شیخ الوظائف دامت برکاتہم العالیہ جو چھوٹے بڑے تمام مسائل کے حل کیلئے عبقری اور تسبیح خانے کے ذریعے وظائف عنایت فرماتے ہیں، کیا یہ کوئی ان کی ذاتی ترتیب ہے یا گزشتہ تمام اکابر کا معمول؟ الحمد للہ عبقری کے تمام وظائف قرآن و سنت کے عین مطابق ہیں، جن پر خواص اور عوام پوری دلجمعی سے عمل کرتے ہیں۔
