محترم قارئین ! بعض اوقات عبقری میگزین میں ایسے واقعات شائع ہوتے ہیں، جن میں سانپوں کی صورت میں جنات کا ظاہر ہونا ثابت ہوتا ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اس جدید سائنسی دور میں بھلا ان تو ہمات کا کیا تعلق ؟ آئیے دیکھتے ہیں کہ ہمارے اکابر کے ہاں ان ماوراء العقل واقعات کی کیا حیثیت تھی ؟
حضرت مولانا محمد عبد المعبود صاحب لکھتے ہیں : طالب علمی کے زمانے میں ہمشیرہ خورشید کے گھر ڈھوک شاہو میں ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔ میں انہیں ملنے گیا۔ نماز مغرب کے بعد ہمشیرہ نے بتایا کہ ہماری گلی کی جانب سے روزانہ اس وقت ایک سانپ نکل کر ہمارے مکان میں چلا جاتا ہے۔ جب سانپ نکلتا ہے تو کتا اس پر بھونکتا ہے۔ میں نے پوچھا کوئی ڈنڈا ہے؟ تو ہمشیرہ جلدی سے ایک ڈنڈا پکڑ لائی۔ ابھی یہ باتیں ہو رہی تھیں کہ کتے نے بھونکنا شروع کر دیا۔ ہمشیرہ کہنے لگیں : شاید سانپ نکل آیا ہے۔ دیکھا تو سانپ ان کے کمرے کی طرف جا رہا تھا۔ میں ڈنڈے کی طرف بڑھا تو وہ خود بخود ٹوٹا ہوا تھا۔ ہمشیرہ لالٹین لے کر آئیں تو وہ بھی اپنے آپ بجھ گئی۔ مجھے سانپ تو نظر نہ آیا، ویسے ہی ڈنڈے کا وار کر دیا۔ جب ڈنڈا زمین پر لگا تو سانپ کھڑا ہو گیا اور واضح نظر آنے لگا۔ میں گھبرا کر پیچھے ہٹا تو سانپ کمرے میں چلا گیا۔ فی الفور مجھے خیال آیا کہ در حقیقت یہ سانپ کی صورت میں ایک جن ہے، لہذا میں نے سورۃ یاسین اور چند دیگر سورتیں پڑھ کر پانی پر دم کیا اور تمام کمروں میں چھڑک دیا۔ الحمد للہ اس دن کے بعد کبھی وہ سانپ نظر نہ آیا.
( بحوالہ کتاب: نقوش زندگی ، صفحہ 100 ناشر : القاسم اکیڈمی جامعہ ابوہریرہ ، خالق آباد نوشہرہ)
