مولانا حاکم علی صاحب لکھتے ہیں : عبدالرشید زرگر نے بتایا کہ امام الاولیاء شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوری رحمتہ اللہ علیہ اپنے چھوٹے بھائی مولوی محمد الیاس کے ہمراہ ایک انگوٹھی بنوانے کیلئے میری دکان پر تشریف لائے اور فرمایا کہ میں عبد الغنی آرا مشین والے کے پاس ٹھہرا ہوا
ہوں ، انگوٹھی وہاں پہنچادینا۔ میں حضرت کے چہرے مہرے اور شخصیت سے بے حد متاثر ہوا۔ میرے ایک دوست لال دین صاحب پر کچھ جناتی اثرات تھے۔ چنانچہ شام کو انگوٹھی پہنچانے کے وقت میں نے انہیں اپنے ساتھ لیا اور حضرت کی خدمت میں حاضر ہو گیا۔ وہاں جا کر دوست کے متعلق ذکر کیا تو حضرت نے تفصیل پوچھے بغیر مختصر سا مراقبہ فرمایا اور اس (جناتی ) چیز کو حاضر کر لیا۔ پھر فرمایا : لوبھئی ! تمہاری ساتھی (جننی ) حاضر ہو گئی ہے اور کہہ رہی ہے کہ میں ہزاروں میل دور بیٹھی تلاوت میں مصروف تھی ، حضرت نے مجھے وہاں سے حکماً اٹھایا اور ایک لمحے کی مہلت بھی نہیں دی۔ میں کھچی ہوئی یہاں چلی آئی اور حضرت کے پیچھے کھڑی ہوگئی ، کیونکہ سامنے کھڑے ہونے کی جرات نہیں ہے۔
حلال حرام جائز نا جائز اور شریعت ہم سے زیادہ ہمارے بڑے جانتے ہیں
( بحوالہ کتاب: حضرت لاہوری کے حیرت انگیز واقعات ، صفحہ 446 ناشر : مکتبہ نعمان بن ثابت اردو بازار لاہور )
