قسط نمبر 97
ہوشیار!!! کہیں کوئی جن آپ کو اغوا نہ کر لے
اکابر پر اعتماد
جو لوگ اپنے مطالعے اور معلومات کی کمی کا شکار ہو کر یہ کہتے ہیں کہ "جنات کی اغوا کاریوں” کا ذکر ماہنامہ عبقری کے سوا کہیں نہیں ملتا، انہیں چاہیے کہ چاروں مکاتبِ فکر کے اکابر و اسلاف کی کتب کا مطالعہ کریں۔ یہ تمام واقعات صدیوں سے ہمارے اکابر و مشائخ کے ذریعے محفوظ چلے آ رہے ہیں۔
مثال کے طور پر:
انصاری صحابی کا واقعہ
مولانا محمد الیاس عطار قادری مدّظلّہ العالی (مکتبۃ المدینہ، بریلوی مکتب فکر) لکھتے ہیں:
ایک انصاری صحابی رضی اللہ عنہ، مغرب یا عشاء کی نماز کے لیے گھر سے نکلے، تو جنات نے انہیں اغوا کر لیا اور کئی سال تک وہ غائب رہے۔ بعد ازاں جب وہ مدینہ منورہ تشریف لائے تو امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ان سے تفصیل پوچھی۔ انہوں نے بتایا: "مجھے جنات پکڑ کر لے گئے اور میں ان کے پاس طویل عرصہ رہا۔ پھر مسلمان جنات نے ان کفار جنات کے خلاف جہاد کیا اور بہت سے افراد کے ساتھ مجھے بھی قید کر لیا۔ بعد ازاں مسلمان جنات نے مجھے اختیار دیا کہ میں ان کے ساتھ رہوں یا اپنے اہل و عیال کے پاس چلا جاؤں۔ چنانچہ میں مدینہ منورہ اپنے گھر واپس آ گیا۔”
— (النہایہ، جلد 1، صفحہ 295، بحوالہ کتاب: فیضانِ سنت، صفحہ 158، ناشر: مکتبۃ المدینہ، کراچی)
خاتون کا واقعہ – جامعہ سلفیہ
اشرف جاوید صاحب (جامعہ سلفیہ، فیصل آباد – مکتبہ اہل حدیث) بیان کرتے ہیں:
ہمارے گھر کے سامنے ایک تالاب تھا، جہاں عورتیں پانی بھرنے آتی تھیں۔ ایک دن ایک عورت کو کسی لڑکی نے آواز دی: "بھاگ بھری! میں تم سے ملنے آئی ہوں!” حالانکہ وہ لڑکی نظر نہیں آ رہی تھی۔ فوراً اس عورت کے سر کے بال آپس میں الجھ گئے اور اس کی حالت غیر ہو گئی۔ اہلِ خانہ اسے لے کر حضرت صوفی محمد عبداللہ رحمۃ اللہ علیہ (بانی: جامعہ تعلیم الاسلام، ماموں کانجن، ضلع فیصل آباد) کے پاس لے گئے۔ انہوں نے دم کیا، تب جا کر اس عورت کو آرام ملا۔
— (بحوالہ: تذکرہ صوفی محمد عبداللہ رحمہ اللہ، صفحہ 382، مصنف: مولانا محمد اسحاق بھٹی، ناشر: مکتبہ سلفیہ، شیش محل روڈ، لاہور)
بغداد کا واقعہ – حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
بغداد کے ایک شخص نے حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: "حضور! میری بیٹی کو جنات اٹھا کر لے گئے ہیں، برائے کرم اس کی بازیابی کا کوئی بندوبست فرمائیں۔” آپ رحمۃ اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا: "فلاں جگہ جا کر اپنے گرد دائرہ کھینچ لو اور یہ الفاظ پڑھو: ‘بسم اللہ علی نیتہ عبدالقادر’۔”
اس شخص نے ایسا ہی کیا، تو جنات کا بادشاہ اس کے سامنے حاضر ہوا اور پوچھا: "تیری کیا حاجت ہے؟”
اس نے اپنی بیٹی کا ذکر کیا، تو بادشاہِ جنات نے فوراً اس کی بیٹی کو واپس لایا اور اغوا کرنے والے جن کا سر قلم کر دیا۔
— (بحوالہ کتاب: جمال الأولیاء، صفحہ 348، ناشر: ادارہ اسلامیات، کراچی)
"عبقری” میں شائع ہونے والے مشہور کالم "جنات کا پیدائشی دوست” جیسے واقعات کو محض عقلی ترازو پر نہ پرکھا جائے۔ اولیاء اللہ کی کرامات کا دروازہ بند نہیں ہوا۔جو حضرات روحانی دنیا کے مسافر ہیں، ان کے لیے یہ سب ماورائے عقل واقعات روزمرہ کا معمول ہیں۔
