شیخ الوظائف روحانی محافل میں اونٹ اور دوسرے جانوروں کی ہڈیوں کو پھینکنے کی بجائے انہیں کسی صاف جگہ رکھنے کی تلقین کرتے ہیں کیونکہ یہ جنات کی غذا ہے۔ ایسے بے شمار لوگ جو فاقہ کشی کی زندگی گزار رہے تھے انہوں نے جب یہ عمل کیا تو رب تعالیٰ نے ان کے رزق میں ایسی بے بہا برکت عطا فرمائی کہ وہ مالا مال ہو گئے اور انہوں نے بار ہا اپنے یہ مشاہدات تسبیح خانہ میں ہونے والی روحانی محافل میں بتائے۔
اس عمل کے بارے میں محد ثِ زما نہ ‘مفسر یگانہ ‘امام جلا ل الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتا ب میں حضور سرور کو نین ﷺکی احا دیث اور اکا بر ین ِ امت رحمہم اللہ کے چند اقوال پیش کیے ہیں ۔ملا خطہ فرمائیں !
حضر ت ابو ہریر ہ رضی اللہ عنہ سے روا یت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : (مفہوم ) میرے لیے پتھر تلا ش کر کے لا ؤ تا کہ میں ان سے استنجا ء کروں اور فرما یا : میر ے پا س ہڈی اور لید وغیر ہ نہ لانا ۔میں نے عر ض کی : یا رسول اللہ ﷺ!ہڈی اورلید سے استنجا ء کیو ں نہیں ہوتا ؟ آپﷺ نے فرما یا :یہ دونو ں چیز یں (ہڈی اور گوبر ) جنا ت کی غذا ہیں ۔ میر ے پاس نصیبین کے ایسے جنا ت کا وفد آیا جو نیک تھے ‘ انہوں نے مجھ سے زادِرا ہ طلب کیا تو میں نے ان کیلئے اللہ تعالیٰ سےدعا ما نگی کہ جنا ت کسی ہڈی اور لید کے پا س سے جب بھی گزریں تو اس پر اپنی غذا مو جو د پا ئیں ۔(صحیح بخا ری ،با ب منا قب الانصا ر )
حضر ت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جنا ت سے ملا قا ت وا لی را ت میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا ۔ آپ ﷺ نے جنو ں سے کہا : ہر وہ ہڈی تمہا ری غذا ہے ‘ جس پر اللہ تعالیٰ کا نا م لیا گیا ہو ‘(یعنی حلا ل ذبیحہ اور قربا نی کے گوشت کی تما م ہڈیا ں اس میں شا مل ہیں)(بحوالہ ؛مسند احمد ‘صحیح مسلم ‘ ترمذی )
حضر ت عبداللہ بن مسعو د رضی اللہ عنہ سے رو ایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں جنات کا ایک وفد آیا اور کہنے لگا :یا رسول اللہﷺ !اپنی امت کو حکم دے دیجئے کہ ہڈی ‘لید اور کو ئلے سے استنجا ءنہ کریں ‘کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان چیزوں میں ہما را رزق مقررکیا ہو ا ہے (سنن ابو داؤد۔کتا ب الطہا رۃ)
اما م بیہقی رحمۃ اللہ علیہ فرما تے ہیں کہ جنا ت جب گوبر کا ٹکڑا اٹھا تے ہیں تو وہ ان کیلئے چھوہا رہ بن جا تا ہے اور جب کو ئی ہڈی اٹھا تے ہیں تووہ گوشت سے بھر جا تی ہے (بحوالہ :دلا ئل النبو ۃ)
بحوالہ کتا ب :لقط المر جا ن فی احکا م الجا ن ‘صفحہ 65مصنف :علا مہ جلا ل الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نا شر : مکتبہ بر کا ت المدینہ ‘کرا چی ۔دوسرا حوالہ :جنو ں کے حا لا ت ‘نا شر:مکتبہ حنفیہ ‘گنج بخش رو ڑ لاہور۔
