یہ دعا پڑھ لو۔۔۔ اندھے ہونے سے بچ جاؤ گے

محترم قارئین ! کچھ لوگ عبقری وظائف کے متعلق کہتے ہیں کہ فلاں قرآنی آیت یا فلاں مسنون دعا کا جو فائدہ عبقری میں بتایا گیا ہے، کیا یہ قرآن وحدیث سے ثابت ہے؟ حالانکہ ایسے کم علم حضرات کو معلوم ہونا چاہئے کہ قرآن وحدیث کے وسیع سمندر میں جتنے بھی موتی موجود ہیں ، وہ سب کے سب دنیا آخرت کی پریشانیوں کے حل کیلئے کارآمد ہیں۔ دراصل ہمارے اکابر علماء و مشائخ کو یہ شان حاصل رہی ہے کہ وہ اپنی مومنانہ فراست یعنی بصیرت باطنی کی برکت سے جان لیا کرتے تھے کہ فلاں آیت فلاں مقصد کیلئے اور فلاں دعا فلاں مسئلے کیلئے بھی استعمال ہو سکتی ہے۔ جیسا کہ درج ذیل واقعے میں صبح و شام پڑھی جانے والی ایک مسنون دعا کو آنکھوں کے امراض کیلئے فائدہ مند بتایا گیا ہے۔

حضرت مولانا قاری محمد اقبال صاحب لکھتے ہیں کہ : جناب محمد اجمل خان (موسیٰ زئی شریف) نے حضرت خواجہ محمد رحمتہ اللہ کی خدمت میں اپنی والدہ کی آنکھوں میں تکلیف کی شکایت کی تو آپ نے آپ فرمایا: میرے والد حضرت خواجہ محمد عمر صاحب رحمتہ اللہ علیہ کو ایک عرصے تک آنکھوں میں تکلیف رہی ، جس کا ذکر انہوں نے اپنے شیخ خواجہ محمد سراج الدین رحمتہ اللہ علیہ سے کیا تو انہوں نے ارشاد فرمایا: یہ مسنون دعا 7 مرتبه مع اول آخر درود شریف 3 مرتبہ پڑھ کر انگلیوں کے پوروں پر دم کر کے آنکھوں پر پھیر لیا کر و

خان جی ! تم بھی یہی وظیفہ پڑھ کے اپنی والدہ صاحبہ کی آنکھوں پر پھیرا کرو، اللہ تعالیٰ صحت و سلامتی عطا فرمائیں گے۔ لہذا اجمل خان صاحب کا کہنا ہے کہ چند دن یہ عمل کرنے سے میری والدہ کی تکلیف جاتی رہی.

قارئین ! اگر کسی کو مسنون دعا کی برکت سے آنکھوں کے امراض سے چھٹکارا مل جائے تو اس میں کم علم لوگوں کو کیا اعتراض ہے؟ دوسرا یہ کہ جو لوگ عبقری کے وظائف کو من گھڑت کہتے ہیں، انہیں چاہئے کہ اکابرو اسلاف میں سے کوئی ایک عالم دین یا پیرو مرشد ایسے ثابت کریں جو عبقری کی طرح کے وظائف نہ دیتے ہوں !!! بھلا کیا وہ سب کے سب ( نعوذ باللہ ) خود ساختہ وظائف کے سہارے زندگی گزار گئے؟ خدارا کچھ تو ہوش کے ناخن لیں!

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2025