یہ مر گیا تو بندر اور خنزیر کی حکومت آجائے گی

قارئین ! تسبیح خانے میں ہونے والے شب جمعہ کے درس میں بیان کیے جانے والے نہ صرف وظائف اور جنات کے واقعات ، بلکہ حضرت شیخ الوظائف دامت برکاتہم العالیہ کی ہر بات کے پیچھے قرآن و سنت اور اکابرین امت کی دلیل موجود ہے۔ حضرت شیخ الوظائف دامت برکاتہم العالیہ فی الحقیقت امن کے داعی اور روحانیت کے مبلغ ہیں۔ اپنے بیانات میں ایک بات اکثر فرمایا کرتے ہیں کہ لوگو! سب سے بدترین مشغلہ حکمرانوں کو گالیاں دینا ہے۔ ان پر تنقید کرنے کی بجائے اپنے اعمال کی اصلاح کرلو، عرش سے تمہارے لیے مہنگائی کے ختم ہونے اور نعمتوں کے عام ملنے کے فیصلے کر دیے جائیں گئے.

آئیے دیکھتے ہیں کہ ان کے اس فرمان کے پیچھے کیا دلیل مولانا ہارون معاویہ صاحب لکھتے ہیں کہ ایک شخص حضرت حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ کی موجودگی میں وقت کے ظالم حکمران حجاج بن یوسف کو بد دعا دینے لگا۔ حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ فرمانے لگے: اللہ تجھ پہ رحم کرے، ایسا نہ کر ، حجاج بن یوسف تمہارے کرتوتوں کی وجہ سے ہی تم پر مسلط کیا گیا ہے۔ میں تو ڈرتا ہوں کہ اگر وہ معزول ہو گیا ، یا مر گیا تو اس کے بعد تم پر بندر اور خنزیر تمہارے حکمران بنا دیے جائیں گے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: حکمران تمہارے اعمال کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ جیسے تمہارے اعمال ہوں گے، ویسے ہی تم پر حکمران آئیں گے۔ پھر فرمایا: مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ ایک شخص نے کسی بزرگ کو خط لکھ کر اپنے حاکم کے مظالم کی شکایت کی تو وہ فرمانے لگے : جو شخص گناہوں کا مرتکب ہو، اسے سزا کی شکایت نہیں کرنی چاہئے ۔

آپ پر جو ظلم کیے جارہے ہیں، یہ در حقیقت آپ ہی کے گناہ کی سزا ہے۔ پھر مزید فرمایا کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ خطبہ جمعہ میں کہا : اے لوگو! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میں ہی اللہ ہوں ، میرے سوا کوئی الہ ( خالق، مالک، رازق ) نہیں۔ میں بادشاہوں کا بادشاہ ہوں اور سارے بادشاہوں کے دل میری مٹھی میں ہیں ۔ جب لوگ میری اطاعت کرتے ہیں تو میں حکمرانوں کو ان کیلئے رحمت بنا دیتا ہوں ۔ لہذا تم لوگ انہیں گالی مت دو، بلکہ اپنے گناہوں سے توبہ کرلو، میں انہیں تم پر مہربان بنادوں گا۔

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2025