قارئین ! عبقری میں دیے گئے کالم ” جنات کا پیدائشی دوست ” میں بعض اوقات تھوڑے وقت میں زیادہ فاصلہ طے کرنے کا ذکر ہوتا ہے۔ یہ دراصل ایک کرامت ہے جو ہمارے اکابر و اسلاف اولیائے کرام کو حاصل رہی ہے۔ آیئے آج ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ ” طے الوقت” کی کرامت کیسے ملتی ہے۔
حضرت مولانا شمس الرحمان عباسی صاحب فرماتے ہیں کہ ہمارے استاذ حضرت مولانا عزیز گل رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت شیخ الہند رحمتہ اللہ علیہ کی بڑی خدمت کی۔ فرمایا کرتے تھے کہ میں حضرت شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ کے پاؤں دبا کر ، سر پر مالش کرکے ، انہیں سلانے کے بعد خود آرام کرتا تھا۔ ایک رات حضرت شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: دہلی میں میرے کچھ کاغذات دفتر میں موجود ہیں اور مجھے ان کی اشد ضرورت ہے ، مگر دہلی بہت دور ہے ، اب کہاں سے لاؤں ؟ دیکھو جب انسان ادب کی دنیا میں آتا ہے اور اپنے استاد کا احترام کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی مدد اس کے ساتھ شامل حال ہو جاتی ہے۔ لہذا انہوں نے بھی جب اپنے شیخ کے پاؤں کی مالش کر کے انہیں سلا دیا تو خودروانہ ہو گئے۔ پیسے تو جیب میں تھے نہیں، پیدل ہی چل پڑے۔ دیوبند اور دہلی کے درمیان 80 میل کا فاصلہ ہے، مگر اللہ تعالیٰ جب کام لینے پر آتا ہے تو کرامات الاولیاء حق کا معاملہ ہو جاتا ہے۔ مولانا عزیز گل صاحب بھی دہلی والے دفتر پہنچے، کاغذات لیے اور اس وقت واپس تشریف لے آئے ، جب حضرت شیخ الہند تہجد کیلئے بیدار ہو رہے تھے۔ انہوں نے حضرت شیخ الہند کو وضو کروایا اور کاغذات ان کے سامنے پیش کیے تو دیکھتے ہی شیخ الہند نے پوچھا: بھئی یہ کیسے لے آئے؟ عرض کرنے لگے: شیخ ! آپ نے ایک خواہش ظاہر کی تھی تو میں اس خواہش کے احترام میں اللہ کا نام لے کر روانہ ہو گیا اور یوں یہ کاغذات لے آیا.
(بحوالہ : ماہنامہ بینات کراچی ، صفحہ 24 ایڈیٹر: مولانا ڈا کٹر عبدالرزاق اسکندر، ناشر : جامعة العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی)
