محترم قارئین! ماہنامہ عبقری میں شائع ہونے والے ہر دلعزیز کالم ”جنات کا پیدائشی دوست“ کے متعلق کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اس میں حضرت علامہ لاہوتی پراسراری دامت برکاتہم کی کشفی کیفیات سمجھ سے بالا تر ہیں۔ حالانکہ ایسے لوگوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ کائنات صرف ہماری محدود عقل کے مطابق نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ نے بعض کو بعض پر فضیلت بخشی ہوئی ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ اکابر و اسلاف میں حضرت علامہ لاہوتی صاحب دامت برکاتہم جیسا کشف کس کس کو حاصل تھا؟
شیخ الحدیث مولانا محمد موسیٰ روحانی بازی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں کہ: مشہور عارف باللہ شیخ عبداللہ دینوریؒ نے فرمایا: ایک دن میرے پاس ایک خستہ حال درویش آکر بیٹھ گیا۔ میں نے دل ہی دل میں ارادہ کیا کہ اپنے جوتے کسی کے پاس رہن رکھ کر اس درویش کے کھانے کی کوئی چیز لے آؤں، لیکن پھر دل میں خیال آیا کہ ننگے پاؤں رہ کر صفائی کس طرح برقرار رکھ سکو گے؟ پھر سوچا کہ اپنی چادر گروی رکھ دوں، لیکن خیال آیا کہ پھر ننگے سر رہ جاؤ گے۔ ابھی اسی تردد میں تھا کہ وہ درویش اٹھ کر چل پڑا اور کہنے لگا: اے کم ہمت! اپنی چادر اپنے پاس ہی رکھ! میں جا رہا ہوں۔ مولانا محمد موسیٰ خان روحانی بازیؒ مزید لکھتے ہیں: معلوم ہوتا ہے کہ وہ درویش صاحبِ کشف و الہام تھے، اسی لیے انہیں شیخ عبداللہ دینوریؒ کے قلبی ارادوں کا کشف ہو گیا (بحوالہ کتاب: رزقِ اولیاء کے غیبی اسباب، صفحہ 134 ناشر: ادارہ تصنیف وادب، جامعہ محمد موسیٰ روحانی البازیؒ، نزد اجتماع گاہ، رائے ونڈ لاہور)
مولانا حکیم محمد عبداللہ صاحب (بانی ادارہ مطبوعاتِ سلیمانی) فرماتے ہیں کہ ایک دن میرے دل میں کسی شخص (بزرگ) سے ملنے کا خیال پیدا ہوا اور میں نے چاہا کہ ان کے پاس جا کر کچھ دن قیام کر کے فیض حاصل کروں۔ ابھی یہ بات میرے جی میں ہی تھی کہ میرے والد مولانا صوفی محمد سلیمان صاحبؒ فرمانے لگے: ذرا سوچ سمجھ کر جانا، آج کل اللہ والے کم ہیں اور دکانداریاں بہت زیادہ ہیں۔ چنانچہ کچھ عرصہ بعد معلوم ہوا کہ وہ شخص واقعی دکاندار تھا
(بحوالہ کتاب: بسوانح عمری، صفحہ 73 مصنف: مولانا احمد الدین حنیف، ناشر: محمدی اکیڈمی، محلہ توحید گنج، منڈی بہاؤالدین)
قارئین! اگر آپ کے پاس اس جیسے مزید حوالہ جات ہوں، تو ہمیں ضرور بھیجیں۔ تاکہ جو لوگ مخلوقِ خدا کے عقائد میں وساوس پیدا کر رہے ہیں، ان کی اصلاح کیلئے محنت اور دعا کی جا سکے۔
