محترم قارئین! جو لوگ عبقری میگزین میں آنے والے جنات کے واقعات کا مذاق اڑاتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ سب قصے کہانیاں ہیں ۔ حضرت علامہ لاہوتی پر اسراری دامت برکاتہم العالیہ کا کوئی وجود نہیں، اگر وجود ہے تو ان کی بیان کردہ سب باتیں غلط ہیں، وغیرہ وغیرہ ۔۔۔ آیئے دیکھتے ہیں کہ ہمارے اکابر و اسلاف کے ہاں جنات سے متعلق ماوراء العقل واقعات کس نوعیت کے تھے
مولانا عبد القیوم حقانی صاحب ( جامعہ ابوہریرہ، نوشہرہ) لکھتے ہیں کہ ایک مرتبہ مرد قلند ر حافظ الحدیث حضرت مولانا عبد اللہ درخواستی صاحب رحمۃ اللہ علیہ سرگودھا سے کو ہاٹ تشریف لا رہے تھے۔ قاضی عبد القادر صاحب نے مجھے کہا کہ دو پہر کے وقت کالا چٹا پہاڑ پہ سفر کرنا خطرے کا باعث بن سکتا ہے کیونکہ گاڑی بہت گرم ہو جاتی ہے مگر حضرت درخواستی” کے حکم پر میں چل پڑا۔ جب پہاڑ کی چوٹی پر پہنچا تو اچانک گاڑی کا ٹائر پھٹ گیا۔ میں چونکہ نیا نیا ڈرائیور تھا، اور مجھے ٹائر بدلنا نہیں آتا تھا، اس لیے کافی پریشان ہو گیا۔ اسی دوران اچانک ایک سائیکل سوار ہمارے قریب آیا تو مرد قلندر حضرت درخواستی نے فرمایا : گاڑی کا سارا کام یہ شخص کرے گا۔ پس اسی آدمی نے آکر میری مدد کی اور گاڑی کا ٹائر بدل دیا۔ جب ہم دوبارہ چل پڑے تو میں نے عرض کی : حضرت! یہ جن تھا یا انسان ؟ اتنی شدید گرمی میں کوئی شخص سائیکل پر سوار ہو کر پہاڑ کی چوٹی پر تو نہیں آسکتا ! حضرت درخواستی ” نے فرمایا: آپ خاموشی سے گاڑی چلاتے رہیں ۔ میں نے پھر پوچھا : حضرت کہیں سے ٹائر مرمت کروالوں ؟ فرمایا: نہیں ! اللہ مدد فرمائے گا ، کو ہاٹ پہنچ کر مرمت کروالینا۔ لہذا جب کو ہاٹ پہنچ کر دیکھا تو ٹائر ٹکڑے ٹکڑے ہوا پڑا تھا لیکن اس کے باوجود گاڑی صحیح سلامت چلتی رہی.
(بحوالہ کتاب: مرد قلندر صفحه 232 ناشر: القاسم اکیڈمی، جامعہ ابو ہریرہ خالق آباد، نوشہرہ)
