27 رجب کو شب معراج اکابرینؒ کی نظر میں

معراج کی رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت پر پہلے پچاس نمازوں کے فرض ہونے کا حکم ملا پھر تخفیف کرکے پانچ کردی گئیںآپ ﷺ معراج سے واپسی پر بیت المقدس میں اترےاور ان تمام انبیائے کرام علیہم السلام کے ساتھ نماز ادا فرمائی جو رخصت کرنے کے لیے بیت المقدس تک ساتھ آئے تھے، پھر وہاں سے براق پر سوار ہوکر اندھیرے میں مکہ معظمہ پہنچ گئے۔

نوٹ :شب معراج کی رات ہمیں نمازوں کے اس انعام کی یاد دہانی کرواتی ہے جسے آج ہم بھول بیٹھے ہیں تسبیح خانہ کا منبر آج کی رات معراج میں کیے گئے عہد کو پھر سے یا د کرانے کی کوشش میں ہے آئیے بغیر کسی پابندی اور تخصیص کے معراج کی رات میں کیے گئے عہد وفا کو ساری دنیا میں پھیلانے کا عزم کرتے ہیں ۔

27 رجب کو شب معراج ہوئی یانہ ہوئی۔۔۔! اس بارے میں علمائے کرام رحمہم اللہ کے مختلف اقوال ہیں، ان میں سے بہت سے علمائے کرام رحمہم اللہ نےرجب کے مہینے اور 27 رجب کو راجح قول قرار دیا ہے ۔

علامہ ابن قتیبہ رحمہ اللہ اور علامہ دینوری رحمہ اللہ(المتوفیٰ267)اور علامہ ابن عبد البر رحمہ اللہ (المتوفی463ٰ)نے معراج کی رات کیلئےماہ رجب کی تعین کی ہے۔

امام رافعی اور امام نووی رحمہمااللہ نے اپنی کتاب میں رجب میں شب معراج کو یقین کےساتھ ظاہر کیا ہے ۔

محدث شیخ عبدالغنی مقدسی رحمہ اللہ نے 27 رجب کی تاریخ کی وضاحت کی ہے کہ اس تاریخ کوہی شب معراج ہوئی تھی۔

علامہ زرقانی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ 27 رجب کی تاریخ پر ہی لوگوں کاعمل ہے اور بعض علمائے کرام رحمہم اللہ کی رائے یہ ہے کہ یہی قوی ترین روایت ہے ۔ کیونکہ اصول یہ ہےکہ جب کسی بات میں سلف کا اختلاف ہو اور کسی رائے کی ترجیح پر کوئی دلیل قائم نہ ہوتو بظن غالب وہ قول صحیح ہو جس پر عمل درآمد ہو اور جو لوگوں میں مقبول ہو۔(بحوالہ سیرۃ النبی ﷺ صفحہ 360 جلد3 تالیف:علامہ سید سلیمان ندوی رحمہ اللہ ، ناشر: دارلاشاعت کراچی۔ضیاالنبی ﷺ صفحہ 482 جلد2، مصنف:پیرمحمد کرم شاہ الازہری رحمہ اللہ،ناشر: ضیاء القرآن کراچی)

واقعہ معراج کی تاریخ اور سال کے متعلق مؤرخین اور اہل سیر کی آراء مختلف ہیں۔ ان میں سے ایک رائے یہ ہے کہ نبوت کے 12ویں سال 27 رجب کو51سال 5 مہینہ کی عمر میں نبی اکرم ﷺکو معراج ہوئی مسلمانوں پر پانچ نمازیں فرض ہوئیں اس سے پہلے دو نمازیں فجر اور عصر کی پڑھی جاتیں تھیں

جیساکہ علامہ قاضی محمد سلیمان سلمان منصورپوری رحمۃا للہ علیہ نے اپنی کتاب "مہر نبوت”میں تحریر فرمایا ہے۔

ڈاکٹر محمد نجیب قاسمی سنبھلی اپنی کتاب ماہ رجب اورواقعہ معراج النبیﷺ میں بیان فرماتے ہیںکہ اس واقعہ کی تاریخ اور سال کے متعلق ‘ مؤرخین اور اہل سیر کی رائے مختلف ہیں، ان میں سے ایک رائے یہ ہے کہ نبوت کے بارہویں سال ۲۷ رجب کو ۵۱ سال ۵ مہینہ کی عمر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج ہو۔( کتاب :ماہ رجب اورواقعہ معراج النبیﷺ: تالیف :ڈاکٹر محمد نجیب قاسمی سنبھلی صاحب)

دارالافتاء انڈیا کےفتویٰ نمبر: 66007 کے مطابق شب معراج کی تاریخ اور ماہ کے سلسلے میں روایات مختلف ہیںان روایات میں سے زیادہ مشہور /۲۷ رجب ہے۔

ملا فتح الله کاشانی صاحب فرماتے ہیں کہ 27 رجب کی رات کو معراج ہوئی اس نظریے کو شہرت حاصل ہے۔

تسبیح خانہ اس معراج کی رات میں دیے گئے انعام کو ساری دنیا میں پھیلانے کا عظم رکھتا ہے ۔

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026