70 ہزار مرتبہ کلمہ بخشش کا ذریعہ

سوال: علامہ لاہوتی صاحب کے کالم میں اکثر کئی مرتبہ 70 ہزار مرتبہ کلمہ کے نصاب کا ذکر آیا ہے، میرے ایک دوست کہتے ہیں کہ 70 ہزار مرتبہ کلمہ کا ہمارے اکابر سے کوئی ثبوت نہیں ہے۔

جواب: یہ بات تمام ہی لوگ جانتے ہیں کہ تمام اذکار میں سب سے بابرکت فضیلت کا حامل یہی کلمہ ہے، تمام مشائخ کے سلاسل میں اس کلمہ پر روحانی عروج کا دارومدار ہے۔ حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا فضائلِ ذکر، باب دوم میں اس کلمہ کے نصاب کے بارے میں لکھتے ہیں کہ ہمارے حضرت شاہ ولی اللہ صاحب رحمہ اللہ نے ”قول جمیل“ میں اپنے والد سے نقل کیا ہے کہ ابتدائے سلوک میں ایک سانس میں لا الہ الا اللہ دو سو مرتبہ کہا کرتا تھا۔

شیخ ابویزید قرطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نے یہ سنا کہ جو شخص ستر ہزار مرتبہ لا الہ الا اللہ پڑھے اس کو دوزخ کی آگ سے نجات ملے، میں نے یہ خبر سن کر ایک نصاب یعنی ستر ہزار کی تعداد اپنی بیوی کیلئے بھی پڑھا اور کئی نصاب خود اپنے لئے پڑھ کر ذخیرہ آخرت بنایا، ہمارے پاس ایک نوجوان رہتا تھا جس کے متعلق یہ مشہور تھا کہ یہ صاحبِ کشف ہے، جنت دوزخ کا بھی اس کو کشف ہوتا ہے، مجھے اس کی سچائی میں کچھ شک تھا، ایک مرتبہ وہ نوجوان ہمارے ساتھ کھانے میں شریک تھا کہ دفعتاً اس نے ایک چیخ ماری اور سانس پھولنے لگا اور کہا کہ میری ماں دوزخ میں جل رہی ہے، اس کی حالت مجھے نظر آئی ہے، قرطبی رحمہ اللہ کہتے ہیں میں اس کی گھبراہٹ دیکھ رہا تھا مجھے خیال آیا کہ ایک نصاب اس کی ماں کو بخش دوں جس سے اس کی سچائی کا بھی مجھے تجربہ ہو جائے گا چنانچہ میں نے ایک نصاب ستر ہزار کا ان نصابوں میں سے جو اپنے لئے پڑھے تھے اس کی ماں کو بخش دیا میں نے اپنے دل میں چپکے ہی سے بخشا تھا اور میرے اس پڑھنے کی خبر بھی اللہ کے سوا کسی کو نہ تھی مگر وہ نوجوان فوراً کہنے لگا کہ چچا میری ماں دوزخ کے عذاب سے ہٹا دی گئی ہے۔

قرطبی رحمہ اللہ کہتے ہیں مجھے اس قصہ سے دو فائدے ہوئے ایک تو اس برکت کا جو ستر ہزار کی مقدار پر میں نے سنی تھی اس کا تجربہ ہوا۔ دوسرے اس نوجوان کی سچائی کا یقین ہو گیا۔ آگے شیخ الحدیث فرماتے ہیں کہ یہ ایک واقعہ ہے اس قسم کے نامعلوم کتنے واقعات اس امت میں پائے جاتے ہیں۔

اب آپ ہی بتائیے کہ اس میں علامہ لاہوتی صاحب کتنے خاموش طریقے سے لوگوں کو اعمال پر لگا کر اللہ اور رسول ﷺ کی اطاعت پر لگا رہے ہیں۔

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2026