کیا آپ ﷺ کو ہمارے ایصال ثواب کی ضرورت ہے ۔۔!
تسبیح خانہ لاہور میں ہر ہفتہ ختم خواجگا ن کے نام پر اور دیگر تمام سلاسل (چشتی ، قادری ، نقشبندی، سہروردی، شاذلی وغیرہ)میںآپ ﷺ سے ایصال ثواب کی ابتداء کی جاتی ہے بعض کم علم رکھنے والے یا اسلاف سے بیزار احباب سوال یہ کرتے ہیں کہ ہمارے ایصالِ ثواب سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا فائدہ پہنچتا ہے؟ جبکہ آپﷺ تودونوںجہانوں کے سردار ہیں اور جنت کے اعلیٰ ترین مقام آپ کے لئے یقینی ہیں،آپ ﷺ تووجہ تخلیق کائنات ہیں۔۔۔!
اس سوال کا جواب ہم اپنی طرف سے دینے کے بجائے حضرت مولانا محمد یوسف صاحب رحمہ اللہ کی طرف سے پیش کرتے ہیں جس سے آپ کو تسلی اور تشفی ہوجائے گی۔
جواب : اُمت کی طرف سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ایصالِ ثواب نصوص سے ثابت ہے، چنانچہ ایصالِ ثواب کی ایک صورت آپ کے لئے ترقی درجات کی دُعا،اور مقامِ وسیلہ کی درخواست ہے، صحیح مسلم کی حدیث میں ہے:
(1) ”جب تم موٴذّن کو سنو تو اس کی اذان کا اسی کی مثل الفاظ سے جواب دو، پھر مجھ پر دُرود پڑھو، کیونکہ جو شخص مجھ پر ایک بار دُرود پڑھے، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے اس پر دس رحمتیں نازل فرماتے ہیں، پھر میرے لئے اللہ تعالیٰ سے ”وسیلہ“ کی درخواست کرو، یہ ایک مرتبہ ہے جنت میں، جو اللہ تعالیٰ کے بندوں میں سے صرف ایک بندے کے شایانِ شان ہے اور میں اُمید رکھتا ہوں کہ وہ بندہ میں ہی ہوں گا، پس جس شخص نے میرے لئے وسیلہ کی درخواست کی اس کو میری شفاعت نصیب ہوگی۔“
(مشکوٰة ص:۶۴)
(2) ”چاور صحیح بخاری میں ہے:جو شخص اذان سن کر یہ دُعا پڑھے: “اے اللہ! جو مالک ہے اس کامل دعوت کا اور قائم ہونے والی نماز کا عطا کر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو وسیلہ اور فضیلت اور کھڑا کر آپ کو مقامِ محمود میں جس کا آپ نے وعدہ فرمایا ہے” قیامت کے دن اس کو میری شفاعت نصیب ہوگی۔“
(مشکوٰة ص:۶۵)
(3) ”حضرت عمر رضی اللہ عنہ عمرہ کے لئے تشریف لے جارہے تھے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلبی کے لئے حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رُخصت کرتے ہوئے فرمایا:”بھائی جان! ہمیں اپنی دُعا میں نہ بھولنا اور ایک روایت میں ہے کہ: بھائی جان! اپنی دُعا میں ہمیں بھی شریک رکھنا ۔“
(ابوداوٴد ج:۱ ص:۲۱۰، ترمذی ج:۲ ص:۱۹۵)
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ جس طرح حیاتِ طیبہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے دُعا مطلوب تھی، اسی طرح وصال شریف کے بعد بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے دُعا مطلوب ہے۔ایصالِ ثواب ہی کی ایک صورت یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے قربانی کی جائے، حدیث میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اس کا حکم فرمایا تھا:
(4) ” حضرت حنش رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ مینڈھوں کی قربانی کرتے ہیں، میں نے عرض کیا: یہ کیا؟ فرمایا کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے وصیت فرمائی تھی کہ میں آپﷺ کی طرف سے قربانی کیا کروں، سو میں آپﷺ کی طرف سے قربانی کرتا ہوں۔“
(ابوداوٴد، باب الاضحیة عن المیّت ج:۲ ص:۲۹)
(5) ”ایک روایت میں ہے کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم فرمایا تھا کہ میں آپ کی طرف سے قربانی کیا کروں، سو میں آپ کی طرف سے ہمیشہ قربانی کرتا ہوں۔ “”ایک روایت میں ہے کہ میں اس کو کبھی نہیں چھوڑتا۔
(مسندِ احمد ج:۱ ص:۱۰۷)(ایضاً ج:۱ ص:۱۴۹)
علاوہ ازیں زندوں کی طرف سے مرحومین کو ہدیہ پیش کرنے کی صورت ایصالِ ثواب ہے، اور کسی محبوب و معظم شخصیت کی خدمت میں ہدیہ پیش کرنے سے یہ غرض نہیں ہوتی کہ اس ہدیہ سے اس کی ناداری کی مکافات ہوگی، کسی بہت بڑے امیر کبیر کو اس کے احباب کی طرف سے ہدیہ پیش کیا جانا عام معمول ہے اور کسی کے حاشیہٴ خیال میں بھی یہ بات نہیں کہ ہمارے اس حقیر ہدیہ سے اس کے مال و دولت میں اضافہ ہوجائے گا، بلکہ صرف ازدیادِ محبت کے لئے ہدیہ پیش کیا جاتا ہے، اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہِ عالی میں گناہگار اُمتیوں کی طرف سے ایصالِ ثواب کے ذریعہ ہدیہ پیش کرنا اس وجہ سے نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان حقیر ہدایا کی احتیاج ہے، بلکہ یہ ہدیہ پیش کرنے والوں کی طرف سے اظہارِ تعلق و محبت کا ایک ذریعہ ہے، جس سے جانبین کی محبت میں اضافہ ہوتا ہے، اور اس کا نفع خود ایصالِ ثواب کرنے والوں کو پہنچتا ہےاور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے درجاتِ قرب میں بھی اس سے اضافہ ہوتا ہے۔
علامہ ابنِ عابدین شامی رحمہ اللہ نے ردالمحتار میں باب الشہید سے قبیل اس مسئلے پر مختصر سا کلام کیا ہے، اتمامِ فائدہ کے لئے اسے نقل کرتا ہوں:
(6) ” علامہ ابنِ حجررحمہ اللہ (مکی شافعی) نے فتاویٰ فقہیہ میں ذکر کیا ہے کہ فلاں عالم دین کا خیال ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو تلاوت کے ثواب کا ہدیہ کرنا ممنوع ہے، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہِ عالی میں صرف اسی کی جرأت کی جاسکتی ہے جس کا اذن ہو، اور وہ ہے آپ پر صلوٰة و سلام بھیجنا اور آپ کے لئے دُعائے وسیلہ کرنا۔
حضرت ابنِ حجررحمہ اللہ کہتے ہیں کہ: حضرت امام سبکی رحمہ اللہ وغیرہ نے ان اعتراض کرنے والے عالم دین پر پر خوب خوب رَدّ کیا ہے کہ ایسی چیز اذنِ خاص کی محتاج نہیں ہوتی، دیکھتے نہیں ہو کہ حضرت ابنِ عمررضی اللہ عنہ ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے عمرے کیا کرتے تھے، جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اس کی وصیت بھی نہیں فرمائی تھی۔ ابن الموفق رحمہ اللہ نے جو حضرت جنید رحمہ اللہ کے ہم طبقہ ہیں، آپ ﷺ کی طرف سے ستر حج کئے، شیخ ابن السراج رحمہ اللہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے دس ہزار ختم کئے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اتنی ہی قربانیاں کیں۔
میں کہتا ہوں کہ میں نے اسی قسم کی بات مفتی حنفیہ شیخ شہاب الدین احمد بن الشلبی رحمہ اللہ، جو صاحبِ بحر الرائق کے اُستاذ ہیں، کی تحریر میں بھی دیکھی ہے، جو موصوف نے علامہ نیویری رحمہ اللہ کی “شرح الطیبہ” سے نقل کی ہے، اس میں موصوف نے یہ بھی نقل کیا ہے کہ حنابلہ میں سے ابنِ عقیل کا قول ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہدیہٴ ثو اب مستحب ہے۔
میں کہتا ہوں کہ ہمارے علماء کا یہ قول کہ: “آدمی کو چاہئے کہ اپنے عمل کا ثواب دُوسروں کو بخش دے” اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی داخل ہیںاور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا زیادہ استحقاق رکھتے ہیں، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی نے ہمیں گمراہی سے نجات دلائی، پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ثواب کا ہدیہ کرنے میں ایک طرح کا تشکر اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے احسانات کا اعتراف ہےاور (آپ صلی اللہ علیہ وسلم اگرچہ ہر اعتبار سے کامل ہیں، مگر) کامل زیادتِ کمال کے قابل ہوتا ہے اور بعض مانعین نے جو استدلال کیا ہے کہ یہ تحصیلِ حاصل ہے، کیونکہ اُمت کے تمام عمل خود ہی آپ کے نامۂ عمل میں درج ہوتے ہیں۔ اس کا جواب یہ ہوسکتا ہے کہ یہ چیز ایصالِ ثواب سے مانع نہیں، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں خبر دی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم پر رحمتیں نازل فرماتے ہیں، اس کے باوجود ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم آپ کے لئے رحمت طلب کرنے کے لئے اللّٰھم صل علیٰ محمد کہا کریں۔ “
( فتاوی شامی ج:۲ ص:۲۴۴، طبع مصر)( بحوالہ آپ کے مسائل اور انکا حل جلد3)
یاد رکھیں کہ تسبیح خانہ اعمال بناتا نہیں بلکہ بتاتا ہے ۔
