شیخ الوظائف عبقری رسالہ اور تسبیح خانہ کے ذریعے لوگوں کے مسائل ‘مشکلات اور الجھنوں کے خاتمہ کے لئے ایسے روحانی تعویذات امت کو عطا کر رہے ہیں جن کی بنیاد کلام الٰہی ہے نہ کہ شرک اور بدعت ۔تعویذات لکھنا صحابہ و اہل بیتؓ ‘ اولیائے کرامؒ اور اکابرینؒ سے ثابت ہے۔
آئیے تعویذات لکھنے کے حوالہ جات جانتے ہیں:
(1) حضرت عبداللہ بن مسعو د رضی اللہ عنہ تعویذ لکھ کردیا کر تے تھے ۔(ابوداؤ ج 2 ص543 ،مصنف ابن ابی شیبہ ج 12ص 75)
( 2) حضرت عبد اللہ بن عبا س رضی اللہ عنہ بچے کی پیدائش کیلئے دوآیا ت قرآنی لکھ کر دیتے تھے اور ا ن کو دھو کر پلا نے کا حکم فرما تے (مصنف ابن ابی شیبہ ج 12ص60) طبرانی کی روایت کے مطا بق یہا ں تک بھی ملتا ہے کہ اس پا نی میں سے کچھ پیٹ اور کچھ منہ پر بھی چھڑک دیتے تھے ۔
(3) سید ہ عا ئشہ صدیقہ رضی اللہ عنہابھی اس کی قا ئل تھیں کہ پا نی میں تعویذ ڈا ل کر وہ پا نی مریض پر چھڑ کا جا ئے ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ج 12ص 60)
(4) حضر ت مجا ہدؒ فر ما تے ہیں کہ ایسا کر نے میں کو ئی حرج نہیں کہ قرآنی آیا ت کو لکھ کر مریض کو پلا ئی جا ئیں ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ج 12ص 74)
(5) حضر ت سعید بن مسیب ؒفرماتے ہیں چمڑے میں ڈال کر تعویذ پہننا جا ئز ہے ۔(مصنف ابن ابی شیبہ ج 12ص 74)
(6)اما م با قرؒ اس میں کو ئی حرج نہیں سمجھتے تھے کی قرآن کریم کی آیا ت کو چمڑے میں لکھ کر لٹکا یا جا ئے (مصنف ابن ابی شیبہ ج 12ص74)
مستند دارالافتاء کا فتویٰ
سوال : کیا تعویز کا باندھنا بدعت ہے چاہے وہ قرآن کی آیات ہو یا اور کچھ ؟
جواب : رقیہ اور تعویذ تین شرطوں کے ساتھ جائز ہے: (۱) یہ کہ وہ آیاتِ قرآنیہ‘ اسمائے حسنیٰ وغیرہ پر مشتمل ہو۔ (۲) عربی یا اس کے علاوہ ایسی زبان میں ہو جو معلوم المراد ہو۔ (۳) یہ عقیدہ ہو کہ یہ تعویذ موٴثر بالذات نہیں ہے (اس کی حیثیت صرف دوا کی ہے) موٴثر بالذات صرف اللہ رب العزت ہیں۔دارالعلوم انڈیا۔
(فتویٰ نمبر:L=3/1434/130-338)
ان حوالہ جات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ تعویذات لکھنا اور اس کا استعمال کرنا شرک و بدعت نہیں بلکہ اکابرین امتؒ سے تواتر کے ساتھ ثابت ہے۔
