رجال الغیب فوراً آپ کی مدد کو پہنچیں بس یہ مسنون دُعا پڑھ لیں

محترم قارئین اتسبیح خانہ میں ایک نہایت پر تاثیر عمل بیان کیا گیا جسکی سند اور فضیلت درج ذیل ہے ۔


عتبہ بن غزوان نبی پاک سلام سے نقل کرتے ہیں کہ جب تمہارا کچھ گم ہو جائے (سواری یا زادِ راہ) یا تم کو ایسے مقام میں جہاں کوئی مددگار نہ ہو اور تم کو کوئی ضرورت پیش آجائے تو کہو۔
يَا عِباد الله اعینونی ۔ ترجمہ : اے اللہ کے بندے میری اعانت کرو۔ سو اللہ کے بندے ایسے ہیں جنہیں ہم نہیں دیکھتے اور وہ مدد کرتے ہیں اور یہ مجرب ہے۔ (مجمع الزوائد : ۱۰ / ۱۳۲) طبرانی نے عتبہ بن غزوان کی حدیث کو مرفوعاً بیان کیا ہے کہ جب تمہارا کچھ کم ہو جائے یا تم کو مدد کی ضرورت پڑ جائے اور وہاں تمہارا کوئی مددگار نہ ہو تو تین مرتبہ آواز دو يَا عِبَادَ اللهِ آعِینُونی ۔ ترجمہ : ” اللہ کے ایسے بندے بھی ہیں جن کو تم دیکھتے نہیں ہو“۔ (الفتوحات : ۱۵۰/۵،حصن: ۲۸۳)
بزرگان دین کا اس عمل کی تائید کرنا اس کے بعد بندے نے عرضداشت کی کہ یہ دعا کس طرح ہے جو لوگ مانگا کرتے ہیں کہ اعینونی یا عباد الله محکم اللہ ”اے اللہ کے بندو میری مددکر و خدا تم پر رحم کرے۔ بندے کا مقصد اس سے یہ تھا کہ غیر خدا سے مدد مانگنا کیسا ہے؟ ارشاد ہوا کہ یہ دعا مانگی جاتی ہے اور اس میں عبا والله المسلمین و المخلصین اللہ کے مسلمان اور مخلص بندے مضمر ہے۔ اور جائز ہے کہ یہ دعا پڑھیں اور بزرگوں نے بھی پڑھی ہے۔ فرمایا کہ شیخ نجیب الدین متوکل رحمتہ اللہ علیہ بھی یہ دعا پڑھتے تھے۔

تصنیف: فوائد الفواد، ملفوظات: حضرت نظام الدین اولیاء مرتب: خواجہ امیر علاسنجری، ناشر: منظور بک ڈپو، دہلی ،صفحہ نمبر: ۳۴۹)

چنانچہ ابن حجر ہیثمی نے نقل کرنے کے بعد اسے مجرب کہا، ابن حجر نے ایضاح المناسک کے حاشیہ میں طبرانی کی اسی حدیث کو نقل کرنے کے بعد اسے مجرب کہا، ابن علان مکی نے الفتوحات میں اسے مجرب کہا اور اپنے شیخ ابوالبر سے مجرب ہونا نقل کیا ہے، محدث قنوجی نے نزل الابرار میں اسے مجرب کہا اور اور خود اپنا واقعہ نقل کیا کہ مجھے بھی مرزا پور جیل پور کے درمیان ایسی مصیبت پیش آئی کہ دریائی طوفان میں گھر گیا سو اللہ پاک نے اس کی برکت سے نجات دی۔ خیال رہے کہ یہ عمل کتب معتبرہ سے ثابت ہے۔ طبرانی، بزار، مجمع الزوائد، این سن، اذکار نویسی، نزل الا برار، حصن حصین کے مؤلفین نے ذکر کیا ہے۔ عتبہ، ابن عباس اور ابن مسعودؓ سے یہ روایتیں ثابت ہیں۔ صاحب مجمع الزوائد نے رواۃ کو ثقات اور بعض روای کو ضعیف قرار دیا ہے، ابن علان نے الفتوحات میں اسے حسن کہا ہے۔ محدثین کی ایک جماعت نے اسے مجرب نقل کیا ہے۔

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2025