شیخ الوظائف ہر مکتبہ فکر کے علماء سے کیوں ملتے ہیں؟ آئیے حقائق جانتے ہیں!

مسلمانوں کی سب سے بڑی طاقت اجتماعیت میںہے۔ جب بھی اسلام کے خلاف کسی فتنے نے سر اٹھایا تو تمام مسالک کے دانا اور حکمت و بصیرت رکھنے والے علماء اور مشائخ نے اپنے اختلافات کو نظر انداز کرتے ہوئے یکجان ہو کر اس فتنے کا مقابلہ کیا ہے۔ تسبیح خانہ نے جہاں پوری دنیا میں لوگوں کو ا یمان ‘ اعمال والی زندگی کا راستہ دیا وہاں امت کو جوڑنے‘ ا مت میں رواداری کا مزاج بنانے اور دلوں کو ملانے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خانقاہ تسبیح خانہ میںہر فرقہ ہر مسلک نہایت اطمینان کے ساتھ آتا ہے اور تسبیح خانہ ان کے دلوں میں توحید اور عشق مصطفیٰ ﷺکی شمع روشن کررہاہے۔ اسی سلسلے میںشیخ الوظائف ہر فرقے کے علماء کا احترام بھی کرتے ہیں اور ان سے وقتاً فوقتاً ملاقات بھی کرتے ہیں۔ اس چیز کو بعض لوگوں نے تنگ نظری کے باعث تنقید کا نشانہ بنایا۔ اس تنگ نظری کا سبب صرف اکابر سے دوری ہے، ذیل میں دیا گیا واقعہ پڑھئے اور اکابر پر اعتماد کیجئے تا کہ ہم سمجھ سکیں کہ دین کے کام کے لئے حکمتِ دین کتنی ضروری ہے۔

حضرت شاہ نفیس الحسینی رحمۃ اللہ علیہ کی ختم نبوت سے متعلق یادداشتوں میں لکھا ہے کہ ’’ایک بار حضرت رائے پوری رحمۃ اللہ علیہ کوملنے کے لیے حضرت شاہ صاحب امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ تشریف لائے تو شیعہ رہنماء سید مظفرعلی شمسی رحمۃ اللہ علیہ بھی آگئے۔ بس مجلس لگ گئی۔ خوب بھرپور گفتگو جاری رہی۔ میں بھی جاکر ایک کونہ میں بیٹھ گیا۔ ان حضرات کی گفتگو سنتا رہا۔ شمسی صاحب چلے گئے تو شاہ صاحبؒ میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ اگر میرے ملنے سے، میرے ہاں آنے سے، حضرت رائے پوریؒ کی زیارت سے یہ لوگ امہات المومنین کو گالیاں نہ دیں تو میرا کیا نقصان ہے؟ اس کا نام حکمت ہے۔ ادع الی سبیل ربک بالحکمۃ

حضرت شاہ نفیس الحسینی رحمۃ اللہ علیہ نےفرمایا ایک مرتبہ میں نے دیکھا کہ شیعہ رہنماء سید مظفرعلی شمسی رحمۃ اللہ علیہ تقریر کررہے تھے۔ شاہ صاحبؒ نے جاکر تھپکی دی۔ بس وہ شاہ صاحبؒ کی تھپکی سے شیر ہوگئے۔ جو شاہ صاحب ؒ کہناچاہتے تھے وہ شمسی صاحب نے کہہ دیا۔ حضرت شاہ صاحبؒ نے ان کے منہ میں گویا اپنی زبان رکھ دی ۔ جوکہلواناچاہتےتھے ان مسالک کے رہنمائوں سے امیر شریعتؒ کہلوالیتے تھے۔یہ بڑی خوبی تھی آپ کی۔‘‘

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2025