مزارات سے فیض اور ہمارے اکابرؒ

شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم کی رائے جانیے!

شیخ الوظائف دامت برکاتہم اکثر فرماتے ہیں کہ ہم اولیاءؒ کے بعد از وصال فیض کے قائل ہیں اور تسبیح خانہ کے منبر سےاس بات کی ترغیب بھی دیتے ہیں کہ اولیاء کرام ؒکو اعمال کا ہدیہ بھیج کر ان سے فیض لیا جائے۔ بعض مخلصین علم کی کمی کی وجہ سے شیخ الوظائف کی اس بات پر بھی اعتراض کرتے ہیں۔آئیے اس بات کی حقیقت ایک بڑے اور مایہ ناز عالم دین سےجانتے ہیںکہ بعداز وصال اولیاء سے فیض لینا حق اور سچ ہے یا یہ ایک مفروضہ اور دین متین سےگمراہی ہے۔

شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی مدظلہ نے اپنے بھائی مفتی اعظم پاکستان رفیع عثمانی رحمۃ اللہ علیہ کی وفات کے موقع پر گفتگو فرمائی جس کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ چشمہ فیض، جس سے ہم نہال تھے وہ اللہ تعالیٰ نے ظاہری طور پر بند کر دیا ہے۔ لیکن خوب سمجھ لیجئے کہ بزرگوںنے یہ کہا ہے اور اگر کوئی اسے کوئی غلط بناناچاہے تو بنائے لیکن یہ حقیقت ہے کہ جس کو اللہ تبارک و تعالیٰ ان کی حیات میں فیض کا ذریعہ بناتا ہے ان کا فیض ان کی وفات کے بعد بڑھ جاتا ہے اور یہ بات میں نے سب سے پہلے اپنے حضرت والد ماجدؒ کی وفات کے موقع پر سنی۔ جب ہم غم سے نڈھال تھے اس وقت حضرت گنگوہی ؒ کے ایک مرید نے مجھ سےیہ جملہ فرمایا کہ’’ تم صدمہ نہ کرو ان بزرگوں کا فیض موت کے بعد بڑھ جاتا ہے‘‘۔میںنے یہ بات سنی تو فوری طور سے تو مجھے اچنبا ہوا کہ انہوں نے یہ کیا بات کہہ دی اور انہوں نےمزید فرمایا کہ یہ ہم نے اپنے بزرگوں سے سنا ہے کہ ان اللہ والوں کا فیض انتقال کے بعد مزید بڑھ جاتا ہے ۔میں نےبعد میں جب غور کیا اور تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ واقعی یہ بات بزرگوں سے منقول ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دینے والی ذات تو صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے۔کوئی مخلوق کسی دوسری مخلوق کو کوئی چیز عطا نہیں کر سکتی ۔استاد ‘ شیخ یا کوئی بڑا ہو وہ کسی کو خود سے اپنے اختیار سے کچھ دینے کی پوزیشن میں نہیں ہے ۔

اصل میں عطا کون کرتا ہے ؟وہ ایک اللہ جل جلالہ کی ذات ہے ‘ البتہ عطا کرنےکے لئے کسی کو واسطہ بنا دیتا ہے کہ عطا تو ہم کریں گے لیکن تمہارے استاد یا شیخ کو واسطہ بنا دیا ۔ اصل میںدینے والا تو اللہ ہی ہے لیکن ان کو واسطہ اور ذریعہ بنا دیا ہے۔ اگر زندگی میں انہیں فیض دینے کا ذریعہ بنایا ہے تواللہ تبارک و تعالیٰ کی قدرت اور رحمت سے کیا بعید ہے کہ ان کے انتقال کے بعد بھی ان کو فیض دینے کاواسطہ بنائے رکھے ۔بے شک کوئی انسان نہ زندہ کسی کو دے سکتا ہے اور نہ مردہ کسی کو دے سکتا ہے لیکن اللہ جس کو چاہے واسطہ بنا دے اور اس کے ذریعے مخلوق کو عطا کر دے۔ خاص طور پر ایسے بزرگ جیسے حضرت والا نور اللہ مرقدہ تھے کہ ان کی کتابیں ان کی تالیفات ان کی تصنیفات ان کے مواعظ دنیا میںپھیلے ہوئے ہیں۔ الحمد للہ وفات سے پہلے ہی سے پھیلے ہوئے تھے‘ ان کا فیض تو جاری تھا اور ان شاء اللہ جاری رہے گا ۔اس واسطے یہ بات نہیں سوچنی چاہیےکہ ہم اس سر چشمہ فیض سے محروم ہو گئے ۔ بلکہ یہ امید رکھنی چاہیے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جیسے انہیںزندگی میں واسطہ بنایا تھا اس طرح وفات کے بعد بھی ان کو واسطہ بنائیں گے۔

ایک روایت میں ہے کہ’’ جب کوئی بندہ اپنے مرحوم کے لئےایصال ثواب کرتا ہے تو فرشتے ایک پیکٹ کی شکل میں اسے ان مرحومین تک لے کر جاتے ہیںاور انہیں بتاتے ہیں کہ یہ فلاں نے آپ کے لئے تحفہ بھیجا ہے تو اس سے ان مرحومین کو مسرت اور خوشی حاصل ہو تی ہے ۔اس لئے ایصال ثواب کے ذریعے مرحومین سے را بطہ رکھنا برحق ہے ۔ انہیں اعمال کے ہدیے بھیجنے سےاللہ تبارک و تعالیٰ انسان کو اجر بھی عطا فرماتے ہیں اور جس ہستی کو ایصال ثواب کیا جائے اس کے فیوض و برکات کو بھی ہدیہ بھیجنے والے کی طرف منتقل فرماتے ہیں ۔

قارئین !بعد از وصال فیض کے بارے میںایک با اعتماد عالم اسلام کی بہت بڑی علمی شخصیت کی رائے پڑھ کر فیصلہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ شیخ الوظائف نے مخلوق خدا کو ہمیشہ اللہ تعالیٰ اوراس کے حبیب ﷺ ‘ آل رسول و اصحابِ رسولﷺ ‘ اولیاء ؒاور اکابرینؒ کی دی ہوئی سچی راہوں سے روشناس کروایا ہے نہ کہ شرک اور بدعت کی ۔بعد از وصال اکابرؒ کے فیض کےمزید واقعات جاننے کے لئے شیخ الوظائف کی تصنیف ’’مزارات سے فیض اور ہمارے اکابر‘ؒ‘ کا مطالعہ کریں۔

شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم کی اس ضمن میں مکمل گفتگو کی تفصیلات جاننےکے لئے اس لنک کو سرچ کیجئے۔

عبقری کا پتہ

جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2025